عبادات - جمعہ و عیدین

India

سوال # 2129

مختلف دنوں میں عید کی نماز پڑھنے کی وجہ کیاہے؟ کیا ہندستان سے باہر چاند کا نظر آنا قابل قبول نہیں ہے؟ جب کہ فتوی دارالعلوم جلد ۶/ صفحہ ۰۸۳/۵۸۳/۶۸۲/ پر ہے کہ پوری دنیا میں کہیں اگر چاند نظر آئے تو اس پر عمل کیا جائے گا۔

Published on: Nov 27, 2007

جواب # 2129

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 1479/ ب= 1306/ ب


 


کسی دوسرے مقام سے چاند کی خبر بطریق موجب آئے تو اس پر عمل کرنا واجب ہے۔ بطریق موجب کا مطلب یہ ہے کہ دو عادل متقی پرہیزگار صحیح العقیدہ آدمی آکر اپنے چشم دید چاند دیکھنے کی گواہی دیں۔ فتاویٰ دارالعلوم میں جو کچھ لکھا ہے اس کا یہی مفہوم ہے۔ البتہ اتنے دور ملک کی خبر معتبر نہ ہوگی جہاں کی خبر ماننے سے ہمارے یہاں کامہینہ ۲۸ دن کا یا ۳۱ دن کا لازم آئے۔ شریعت کی طرف سے سہولت دی گئی ہے کہ اگر سخت مسلسل بارش کی وجہ سے گھر سے باہر نکل کر عید کی نماز پڑھنا مشکل ہو، یا کوئی بلوہ پہلے دن ہوگیا یا چاند کی خبر بطریق موجب کہیں سے نہیں آئی تو دوسرے دن عید کی نماز پڑھی جاسکتی ہے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات