عبادات - جمعہ و عیدین

India

سوال # 20075

میرے گاؤں کے بارے میں تفصیل یہ ہے کہ گاؤں کی کل آبادی پندرہ سو، ان میں مسلم کی آبادی دو سو ہے۔پورے گرام سبھا کی آبادی چار ہزار کے آس پاس ہے، ان میں سے مسلم کی آبادی چار سوہے۔ میرے گاؤں تک پکی سڑک ہے۔ تقریباً دس چھوٹی چھوٹی دکانیں ہیں، میرے گاؤں کی مسجد تقریباً چالیس سال پرانی ہے، میرے گاؤں سے ساڑھے تین کلومیٹر پر جمعہ کی نماز ہوتی ہے۔ میرے گاؤں میں کوئی بازار نہیں لگتی، کوئی سونے چاندی کی دکان نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اگر کوئی جانکاری چاہیے تو برائے کرم بتائیں او رمیری رہنمائی کریں کہ ہم لوگ اپنی مسجد میں نماز جمعہ ادا کرسکتے ہیں کہ نہیں یا پھر ظہر کی نماز ہی پڑھیں؟

Published on: Mar 12, 2010

جواب # 20075

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی(ب): 296=54tb-3/1431


 


دو مستند ومعتبر مفتیوں کو لے جاکر اپنے گاوٴں کا تفصیلی معائنہ کرائیں، وہ لوگ معائنہ کے بعد اگر آپ کے گاوٴں کو قریہ کبیرہ بتائیں تو آپ اس میں جمعہ قائم کرسکتے ہیں اور اگر وہ قریہ صغیرہ بتائیں تو وہ ظہر کی نماز باجماعت ادا کرتے رہیں۔ تین کلومیٹر دُور جمعہ پڑھنے کے لیے جانے کی ضرورت نہیں۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات