عبادات - جمعہ و عیدین

Pakistan

سوال # 18371



اگر
جمعہ کا خطبہ نہ ملے اور میں دوسری رکعت میں جاکر شریک ہوجاؤں تو کیا میرا جمعہ
ہوجائے گا، یا جمعہ کے لیے خطبہ سننا ضروری ہے؟ (
۲) میرا دوسرا سوال یہ ہے
کہ جو یا رسول اللہ کہتے ہیں کیا یہ کہنا صحیح ہے یا غلط، کیوں کہ بریلوی یا رسو ل
اللہ کہتے ہیں؟ اس کے بارے میں کوئی حدیث یا قرآن میں اس کے بارے میں کوئی ذکر ہو
تو مجھے بتائیں؟ (
۳)اور
ذرا فقہ کے با رے میں بتائیں کہ جو چار امام کو نہیں مانتا تو اس کے لیے کیا حکم
ہے اور کیا ان چار امام کو ماننا ضروری ہے؟ برائے کرم صحیح حدیث کے ساتھ واضح
کریں۔ مجھے آپ کے جواب کا انتظار رہے گا۔ آپ سب مفتی حضرات کا بہت بہت شکریہ



Published on: Jan 9, 2010

جواب # 18371

بسم الله الرحمن الرحيم



فتوی(ل):
8=8-1/1431



 



(۱) جی ہاں آپ کا جمعہ
ہوجائے گا، جمعہ کے صحیح ہونے کے لیے خطبہ کا سننا ضروری نہیں:
ومن أدرکھا في تشہد أو
سجود سہو علی القول بہ فیہا یتمہا جمعة (الدر المختار مع الشامي:
۳/۳۳، باب الجمعة، ط زکریا
دیوبند)



(۲) رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کو حاضر وناظر جان کر یا رسول اللہ کہنا جیسا کہ بریلوی حضرات کہتے ہیں، جائز
نہیں۔



(۳) چاروں امام برحق ہیں،
انھوں نے قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہی مسائل کا استنباط کیا ہے۔ ان چاروں ائمہ کے
مسالک جس طرح مہذب اور منقح انداز میں پائے جاتے ہیں اس طرح ان کے علاوہ کے مسالک
نہیں پائے جاتے۔ یہی وجہ ہے کہ امت کے قابل اعتبار علمائے دین کا کسی ایک امام کی
تقلید پر اجماع ہے، کبار علماء، محدثین، صوفیا نے بھی مقلد ہونے کو عار نہیں جانا
بلکہ مقلد رہے۔ جو شخص تقلید کا منکر ہے وہ گمراہ ہے اور جادہٴ مستقیم سے منحرف
ہے۔ [الکلام المفید في اثبات التقلید] میں تقلید پر عمدہ بحث موجود ہے اگر تفصیل
درکار ہو تو اس کا مطالعہ کیا جائے۔




واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات