عبادات - جمعہ و عیدین

Pakistan

سوال # 16937



ہماری
مسجد میں عیدالفطر کی شب یہ التزام ہوتا ہے کہ ایک صاحب بیان کرتے ہیں اور اس کے
بعد دعا ہوتی ہے۔ اس مجلس میں علاقہ کے کافی لوگ شریک ہوتے ہیں۔ شاید یہ معمول
کوئی تیس سال پرانا ہے۔ دریافت یہ کرنا ہے کہ اس میں کوئی شرعی قباحت تو نہیں ہے؟
وجہ اس کی یہ بیان کی جاتی ہے کہ یہ رات لیلة القدر جیسی ہے جس میں عبادت کا ثواب
بہت زیادہ ہے اور عام طور پر لوگ اس رات کو خریداری وغیرہ میں صرف کردیتے ہیں۔



Published on: Nov 5, 2009

جواب # 16937

بسم الله الرحمن الرحيم



فتوی(م):1616=1616-11/1430



 



عیدالفطر
کی رات بھی بڑی مبارک اور اہمیت والی ہے، لوگ عموماً اس رات کو خریداری وغیرہ میں
ضائع کردیتے ہیں، حالانکہ رمضان کی دیگر راتوں کی طرح اس رات (شب عید الفطر) میں
بھی انفرادی طور پر نماز وتلاوت، ذکر و دعا کا اہتمام رکھنا چاہیے، آپ کی مسجد میں
عیدالفطر کی رات بیان ودعا کا جو معمول ہے شرعاً اس میں قباحت تو نہیں لیکن اگر اس
درجہ التزام ہو کہ اس کو (بیان ودعا) کو ضروری اور اس رات کا مخصوص عمل یہی سمجھا
جاتا ہو تو پھر اس التزام کو ختم کرنا چاہیے اورانفرادی طور پر عبادت کرنی چاہیے۔




واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات