عبادات - جمعہ و عیدین

India

سوال # 166708

ہمارے شہر میں چند لوگوں نے سرکار سے LEASE(کرایہ ) پر مسجد کے لئے جگہ لی ۔اس کی خریداری (حق ملکیت ) ابھی تک نہیں ہوئی ہے لیکن لوگوں نے وہاں پختہ مسجد تعمیر کردی ہے ۔کئی سال گزر گئے لیکن آج تک بلدیہ کو حق ملکیت نہیں ادا کیا گیا ہے اور نہ ہی بلدیہ نے خریداری کی دستاویز دی ہیں۔بلدیہ کی جانب سے جگہ کے انخلا ء کے لئے نوٹس جاری ہوچکی ہے ۔LEASEلیتے وقت جگہ کی قیمت لگ بھگ 400000/-چار لاکھ تھی ،اور اب اس کی قیمت موجودہ نرخ کے حساب سے 70 اندازکے مطابق لاکھ تک تجاوز کرچکی ہے ۔ آج یہاں روزانہ پانچ وقتہ نمازیں ہو رہی ہیں اور نماز جمعہ بھی اجتماعی طور پر پڑھی جارہی ہے ۔ جواب طلب مسئلہ یہ ہے کہ * کیا یہ مسجد شرعی مسجد ہو سکتی ہے ؟ کیا اس مقام پر جمعہ کی نماز ادا کی جاسکتی ہے ؟

Published on: Dec 16, 2018

جواب # 166708

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:235-253/=N=4/1440



(۱، ۲): لیز کی زمین پر اگر مسجد تعمیر کرلی جائے تو وہ مسجد شرعی تو نہیں ہوتی(فتاوی دار العلوم دیوبند، ۱۳: ۲۸۲، ۲۹۲، ۲۹۳، جواب سوال: ۲۸۷،۳۰۰، ۳۰۱، مطبوعہ: مکتبہ دار العلوم دیوبند)؛ البتہ اگر لیز کی مدت باقی ہے تو وہاں نماز پنجگانہ اور نماز جمعہ ہوجاتی ہے؛ لیکن جب وہ مسجد شرعی نہیں ہے تو مسجد کا ثواب نہیں ملتا؛ اس لیے ذمہ داران کو چاہیے کہ بلدیہ سے قانونی طور پر حق ملکیت حاصل کرکے اس زمین کو مسجد کے طور پر وقف کردیں اور نماز باجماعت کے حصہ کو مسجد شرعی قرار دیدیں؛ تاکہ وہاں نماز پڑھنے والو ں کو مسجد کا بھی ثواب حاصل ہو۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات