عبادات - جمعہ و عیدین

India

سوال # 162798

محترمی و مکرمی حضرات بہت معتبرافراد سے بارہا یہ سنا ہے کہ اگر کوئی شخص لگاتار تین جمعہ نہیں پڑھتا تو وہ مسلمان باقی نہیں رہتا اور اس کی کوئی دعا قبول نہیں ہوتی ..... ۱) بتائے اس بات میں کتنی صداقت ہے ؟
۲) اب میں ہمیشہ نماز پڑھتا رہتا ہوں لیکن پچھلے تین جمعہ مجھ سے رہ گئے تو کیامیں اسلام سے بے دخل ہوگیا؟ اگر ہاں تو واپسی کی صورت کیسی ہے ، یعنی اس کی معافی کیسے ہوگی؟
۳) ایک سوال اور ہے کہ اگر کوئی شخص پابندی سے صرف جمعہ پڑھے دوسری نمازیں جان بوجھ کر بغیر کسی عذر کے چھوڑتا رہے تو کیا وہ مسلمان باقی رہے گا؟
برائے مہربانی تفصیل سے رہنمائی فرمائیں. نوازش ہوگی شکریہ

Published on: Jul 22, 2018

جواب # 162798

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1069-911/N=11/1439



(۱، ۲): حدیث میں یہ مضمون آیا ہے کہ جو شخص کسی عذر شرعی کے بغیر معمولی سمجھ کر تین جمعہ چھوڑدے تو اللہ تعالی اس کے دل پر مہر لگادیتے ہیں اور بعض روایات میں ہے: اللہ تعالی اسے منافق لکھ دیتے ہیں؛ لیکن آدمی اسلام سے خارج نہیں ہوتا؛ لہٰذااگر آدمی سچی پکی توبہ کرلے اور چھوٹی ہوئی نمازوں کی قضا کرلے تو حسب سابق سچا مسلمان ہوجائے گا۔



عن أبي جعد الضمريقال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ”من ترک ثلاث جمع تھاوناً بھا طبع اللہ علی قلبہ“ رواہ أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجة والدارمي ورواہ مالک عن صفوان بن سلیموأحمد عن أبي قتادة(مشکاة المصابیح، کتاب الصلاة، باب وجوب الجمعة، الفصل الثاني، ص: ۱۲۱، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)، (طبع اللہ) أي: ختم (علی قلبہ) بمنع إیصال الخیر إلیہ، وقیل: کتبہ منافقاً (رواہ أبو داود والترمذي) قال میرک: وحسنہ (والنسائي) قال ابن الھمام: وحسنہ (وابن ماجة والدارمي) قال میرک: والحاکم وقال: صحیح علی شرط مسلم وابن خزیمة وابن حبان في صحیحھما ولفظھما: من ترک الجمعة ثلاثاً من غیر عذر فھو منافق (مرقاة المفاتیح، ۳: ۴۲۰، ط: دار الکتب العلمیة بیروت)۔



(۳): ایسا شخص مسلمان تو باقی رہے گا؛ البتہ جمعہ کے علاوہ دیگر نمازیں چھوڑنے کی وجہ سے سخت مجرم وگنہگار ہوگا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات