عبادات - جمعہ و عیدین

India

سوال # 160377

میرا سوال یہ ہے کہ کیا خطبہ جمعہ کے وقت تشہد میں بیٹھنا سنت ہے ، اور اگر کوئی جوان آدمی بھی اس طرح نہ بیٹھے تو کیا وہ گنہگار ہوگا، ایک مسجد کے امام صاحب ہیں اور وہ دیوبندی مسلک کے ہیں، وہ ہر جمعہ پر بیان کرنے کے بعد خطبہ دینے سے پہلے تمام نمازیوں سے کہتے ہیں کہ سب تشہد کی حالت میں بیٹھ جائیں سوائے کمزور اور بوڑھے لوگوں کے ، مطلب یہ کہ جوان یا صحت مند لوگ اس طرح نہ بیٹھیں انکی اس بات سے مجھے بڑی ناگواری پیدا ہوتی ہے اور وہ اس تاکید سے کہتے ہیں کہ گویا یہ عمل سنت ہے اور میں جوان ہوں لیکن مجھے چار زانو ہی سکون ملتا ہے لیکن اب مجبوراً مجھے بھی تشہد کی حالت میں بیٹھنا پڑھتا ہے کیونکہ برابر بیٹھے حضرات ایسے دیکھتے ہیں جیسے تشہد کی حالت میں نہ بیٹھ کر کوئی گناہ کر رہا ہوں۔
دوسرا سوال یہی امام صاحب جب بھی دعا مانگتے ہیں تو بغیر حمد و ثنا کے بس درود شریف پڑھ کر دعا شروع کرتے ہیں اور ہر دعا کے اختتام پر کلمہ طیبہ *لا إلہ إلا اللہ محمد رسول اللہ* ، پر دعا ختم کرتے ہیں جیسے آجکل بریلوی مسلک کے حضرات کا معمول ہے ۔
آخری سوال ٹخنوں سے نیچے کپڑے پہننے پر کیا وعیدیں آئیں ہیں نماز یا نماز کے علاوہ!برائے مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں مدلل جواب دے کر عند اللہ ماجور ہو ں۔

Published on: Apr 25, 2018

جواب # 160377

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:752-659/D=8/1439



خطبہٴ جمعہ کے وقت تشہد کی حالت میں بیٹھنا ایک پسندیدہ امر ہے، کیوں کہ اس حالت میں خطبہ کو سننے کی طرف توجہ زیادہ رہتی ہے، لیکن اگر کوئی شخص عذر کی وجہ سے یا اپنی آسانی کے لیے تشہد کی حالت میں نہ بیٹھے بلکہ ادب کا خیال رکھتے ہوئے کسی دوسری طرح بیٹھ کر دھیان اور توجہ سے خطبہ سنے تو یہ بھی بلاکراہت جائز ہے، اور ایسا شخص نہ گنہ گار ہے اور نہ ہی قابل ملامت ہے۔



(۲) دعا شروع کرتے وقت حمد وثنا دعا کے آداب میں سے ہے، حمد وثنا کے لیے کسی خاص کلمہ کا کہنا بھی ضروری نہیں ہے، اس لیے اپنے امام کے بارے میں حسنِ ظن رکھنا چاہیے کہ وہ کسی نہ کسی جملے سے اللہ تعالیٰ کی تعریف کردیتے ہوں گے۔ إذا شہد الرجل عند الخطبة إن شاء جلس محتبیًا أو متربعا أو کما تیسر، لأنہ لیس بصلاة عملا وحقیقة کذا في المضمرات، ویستحب أن یقعد فیہا کما یقعد في الصلاة (ہندیة: ۱/ ۲۰۹)



(۳) ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانے کے سلسلے میں حدیث شریف میں بڑی سخت سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، چناں چہ بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے کہ ایسے شخص کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت میں نظر رحمت نہیں فرمائیں گے، اور بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ کپڑا کا جو حصہ ٹخنے کے نیچے ہوگا اللہ تعالیٰ اس کو جہنم میں جلائیں گے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات