عبادات - جمعہ و عیدین

New Zealand

سوال # 160264

کیا یہ بات درست ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا جمعہ عربی کے علاوہ درست ہے ۔ براہے کرم مفصل اور مدلل بیان فرمائیں عربی کا ترجمہ فرمائیں مثالیں بھی دیں سمجھانے کے لئے ۔

Published on: May 30, 2018

جواب # 160264

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:919-966/L=9/1439



جمعہ کے دونوں خطبوں کو خالص عربی زبان میں پڑھنا ضروری ہے اور اسی پر امت کا توارث چلا آرہا ہے واضح رہے کہ امام صاحب کی طرف جو یہ بات منسوب کی جاتی ہے کہ وہ خطبہٴ جمعہ کے جواز کے قائل تھے بالکل غلط ہے بلکہ امام صاحب کے یہاں غیرعربی میں خطبہ دینا مکروہ تحریمی اور ناجائز ہے، ہاں اگر کسی نے اس مکروہ تحریمی کا ارتکاب کرلیا اور غیرعربی میں خطبہ دیدیا تو اگرچہ اس کا خطبہ ادا ہوجائے گا گو ایسا کرنا درست نہیں ہے۔



فإنّہ لا شکَّ فی أنَّ الخطبةَ بغیرِ العربیَّةِ خلافُ السُّنَّةِ المتوارثةِ عن النَّبیِّ - صلی اللہ علیہ وسلم - والصَّحابة - فیکون مکروہاً تحریماً (عمدة الرعایة علی ہامش شرح الوقایة: ۱/۲۰۰، ط: سعیدیہ) ولا یشترطُ کونُہا بالعربیَّة؛ فلو خطبَ بالفارسیَّةِ أو بغیرہا جاز، کذا قالوا، والمراد بالجوازِ ہو الجوازُ فی حقِّ الصَّلاة، بمعنی أنّہ یکفی لأداءِ الشَّرطیَّة، وتصحُّ بہا الصَّلاة، ولا الجوازُ بمعنی الإباحةِ المطلقة، فإنّہ لا شکَّ فی أنَّ الخطبةَ بغیرِ العربیَّةِ خلافُ السُّنَّةِ المتوارثةِ عن النَّبیِّ - صلی اللہ علیہ وسلم - والصَّحابة - رضی اللہ عنہم - فیکون مکروہاً تحریماً (عمدة الرعایة علی ہامش شرح الوقایة: ۱/۲۰۰، ط: سعیدیہ)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات