عبادات - جمعہ و عیدین

India

سوال # 160055

(۱) جمعہ کی اذان کے بعد کاروبار کرنا حرام ہے ۔ تو میرا سوال یہ ہے کہ جمعہ کی کونسی اذان کے بعد کاروبار کرنا حرام ہے؟
(۲) اور کیا جمعہ کا اُردو خطبہ بھی عربی خطبہ کی طرح تشہد کی ہی مقدار بیٹھنا ہے اور توجہ سے سننا ہے؟

Published on: May 10, 2018

جواب # 160055

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:833-710/sn=8/1439



(۱) جمعہ کی پہلی اذان (جو خطبہ شروع ہونے سے کم وبیش آدھا گھنٹہ پہلے ہوتی ہے) کے بعد سے ہی خرید وفروخت اور کاروبار وغیرہ میں اشتغال ناجائز اور مکروہ ہوجاتا ہے ووجب سعی إلیہا وترک البیع ․․․․ بالأذان الأول فی الأصح وإن لم یکن فی زمن الرسول؛ بل فی زمن عثمان الخ (درمختا مع الشامي: ۳/ ۳۸، ط: زکریا)



(۲) اردو تقریر کا حکم عربی خطبہ (جو شرائط جمعہ میں سے ہے) جیسا تو نہیں ہے؛ لیکن بہرحال اردو تقریر کے دوران بھی سکون سے بیٹھ کر دھیان سے تقریر سننی چاہیے، واضح رہے کہ خطبہ خواہ عربی ہو یا اردو، کسی کے دوران تشہد کی ہیئت میں بیٹھنا ضروری نہیں ہے، آدمی کسی بھی مناسب ہیئت میں بیٹھ سکتا ہے۔



نوٹ: تشہد کی مقدار بیٹھنے سے اگر آپ کی مراد کچھ اور ہو تو اس کی وضاحت کرکے دوبارہ سوال کرلیا جائے۔



-----------------------------



جواب صحیح ہے البتہ جمعہ کا عربی خطبہ نماز کی طرح بیٹھ کر سننا مستحب ہے۔ (عالمگیری: ۱۴۸، مطبوعہ مصر) (ن)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات