عبادات - جمعہ و عیدین

India

سوال # 159745

حضرت، ہمیں یہ معلوم کرنا ہے کہ ہمارے یہاں کے جو امام صاحب ہیں وہ ہر جمعہ کو خطبہ سے پہلے تقریر کرتے ہیں۔ یہ ٹائم انہوں نے بنایا ہے: 12:30 پر اذان ہوتی ہے اور کچھ ٹائم بعد وہ تقریر کرتے ہیں۔ جو انہوں نے ٹائم بنایا ہے کہ 1:05 تک تقریر ہوگی اور اس کے بعد پانچ منٹ کے لیے سنت کا وقت دیں گے پھر 1:10 پر خطبہ شروع ہوگا مگر وہ 1:10 یا 1:12 تک تقریر کرتے ہیں اس کے بعد سنت کا ٹائم دیتے ہیں جس کی وجہ سے ٹائم پر کبھی جمعہ کی نماز نہیں ہوتی، جس سے مقتدی حضرات ناراض رہتے ہیں، کیا یہ صحیح ہے؟
اور دوسری بات یہ ہے کہ کیا جمعہ کی نماز ظہر کے وقت سے پہلے پڑھنا درست ہے؟ اکثر جگہوں پر 1:00 بجے خطبہ کا ٹائم ہوتا ہے، کیا اس کی بھی کوئی فضیلت ہے؟

Published on: Mar 27, 2018

جواب # 159745

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:839-680/sd=7/1439



 (۱) جمعہ کی نماز کا جو وقت مقرر ہے ، امام صاحب کو اس سے پانچ سات منٹ پہلے بیان ختم کردینا چاہیے ، تاکہ وقت پر خطبہ اور نماز ہوسکے ، مستقل تاخیر کا معمول بنالینا صحیح نہیں ہے ، جمعہ کی نماز میں عموما معذورین بھی شرکت کرتے ہیں، بسا اوقات مسافر بھی ہوتے ہیں؛ البتہ اگر کبھی کسی خاص موضوع یا بات مکمل کرنے کی وجہ سے پانچ سات منٹ کی تاخیر ہوجائے ، تو مصلیوں کو ناراض نہیں ہونا چاہیے ۔



(۲) جمعہ کا اصل وقت ظہر کے وقت کی طرح ہے ؛ لیکن جمعہ کی نماز میں تعجیل، یعنی اول وقت نماز پڑھنا افضل ہے ۔( شامی : ۲۵/۲، زکریا ) 



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات