عبادات - جمعہ و عیدین

India

سوال # 159194

مفتی صاحب! آج میں ایک مسلم بھائی سے بات کر رہا تھا جو کمپنی میں ابھی نئی ملازمت جوائن کر رکھا ہے۔ انہیں فون کرنے کا مقصد ان کے دینی حالات جاننا تھا کہ پتا نہیں وہ جمعہ کی نماز بھی پڑھتے ہیں یا نہیں۔ ان سے بات چیت کے دوران ان سے میں نے کہا کہ ”کبھی چائے پر ملیں گے“ تو انہوں نے ہاں کہا، تو پھر اصل پوائنٹ پر آنے کے لیے میں نے تھوڑا ہچکچاتے ہوئے کہا کہ ”یا پھر کل جمعہ- وومہ میں“ پھر فوراً تنبہ ہوا کہ ایسا نہیں بولنا چاہئے تو پھر کہا کہ ”کل جمعہ میں ملیں؟“ تو کیا اس ”جمعہ - وومہ“ کہنے سے گناہ ہوگا؟ یا ایمان میں کچھ فرق آئے گا؟

Published on: Feb 26, 2018

جواب # 159194

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 609-520/D=6/1439



کسی بامعنی لفظ کے ساتھ دوسرا بے معنی (مہمل) لفظ بولنا کبھی تحقیر کے طور پر ہوتا ہے اور کبھی عرف وعادت کے طور پر۔ قابل احترام الفاظ کے لیے بطور تحقیر مہمل لفظ کا لاحقہ لگانا خلاف ادب ہے اور نامناسب ہے اور عرف وعادت کے طور پر بھی لگانے سے بچنا چاہیے آپ نے جمعہ کے بعدوومہ جو کہہ دیا اس سے تحقیر مقصود نہیں تھی بلکہ بطور عادت زبان پر آگیا لہٰذا امید ہے کہ اس سے گناہ نہ ہوگا۔ آئندہ احتیاط کریں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات