عبادات - جمعہ و عیدین

India

سوال # 158863

میرا چھوٹا سا سوال ہے براہ مہربانی صحیح جواب دیجیے گا کہ کتا و سنّت کی روشنی میں جمعہ میں دو اذانیں ہوتی ہیں تو حدیث میں کیا دونوں اذان مسجد میں ہی دین ہیں ؟ مجھ سے ایک اہل حدیث نے یہ سوال پوچھا ہے ۔

Published on: Apr 10, 2018

جواب # 158863

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:715-674/L=7/1439



جمعہ کی اذان اول مسجد کے باہر موجود لوگوں کو اطلاع کرنے کے لیے ہے اس لیے پہلی اذان کا خراج مسجد ہونا بہتر ہے کیونکہ اذان کا مقصد اعلام غائبین ہے البتہ اگر مائک سے اذان دی جائے اور آواز خارج مسجد چلی جائے گویا اذان کا مقصد حاصل ہوجائے تو مسجد میں بھی اذان دینے کی گنجائش ہے جہاں تک دوسری اذان کا مسئلہ ہے تو اذان ثانی کی حیثیت اقامت کی طرح ہے کیونکہ اس کا مقصد حاضرین مسجد کو مطلع کرنا ہے کہ وہ نوافل وتلاوت وغیرہ سے فارغ ہوکر خطبہ سننے کے لیے متوجہ ہوجائیں اس لیے جمع کی اذانِ ثانی میں مسنون یہ ہے کہ منبر کے قریب خطیب کے سامنے ہو اور یہی عام بلادِعرب وعجم نیز سلف وخلف کا معمول بہ ہے وما رآہ المسلمون حسنا فہو عند اللہ حسن․ منہا: أن یجہر بالأذان فیرفع بہ صوتہ؛ لأن المقصود وہو الإعلام یحصل بہ ألا تری أن النبی - صلی اللہ علیہ وسلم - قال لعبد اللہ بن زید رضي اللہ عنہ علمہ بلالاً فإنہ أندی وأمد صوتا منک؟ ولہذا کان الأفضل أن یؤذن فی موضع یکون أسمع للجیران کالمئذنة ونحوہا․ (بدائع: ۱/ ۶۴۲، ط: دار الکتب العلمیہ، بیروت) ویوٴذن ثانیا بین یدیہ أي الخطیب وفي الشامیة تحت قولہ ویوٴذن ثانیا بین یدیہ علی سبیل السنیة کما یظہر من کلامہم (رد المحتار: ۲/۱۶۱، ہندیہ)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات