عبادات - جمعہ و عیدین

India

سوال # 157900

محترم المقام مفتی صاحب، آج سے تقریباً ۳۰ سال قبل شہر ممبئی کے ایک کالج کے ہال میں نماز جمعہ کے اہتمام کا آغاز ہوا تھا۔ اس دور میں مسلمانوں کے پاس وسائل کم تھے اور مساجد کی قلت تھی۔ اس لحاظ سے وہ اس وقت کی ضرورت تھی۔ لیکن آج اس کالج کے اطراف میں مساجد تعمیر ہو چکی ہیں۔ ان میں سے چند مساجد میں تو جمعہ کی تین الگ الگ جماعتیں بھی ہوتی ہیں۔ تو کیا آج اس کالج کے ہال میں جمعہ کا قیام جائز ہوگا؟
یہاں ایک اور دو باتوں کی وضاحت بھی ضروری سمجھتا ہوں؛ اول یہ کہ اس ہال میں سوائے ماہ رمضان کے کسی بھی نماز کا جماعت کا اہتمام نہیں کیا جاتا ہے ، بلکہ یہ ہال کالج کے لڑکے لڑکیوں کے بیٹھنے کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ ہاں، ماہ رمضان میں یہاں نماز پنچگانہ وتراویح کا قیام ہوتا ہے ۔
دوسری بات یہ ہے کہ کیونکہ کالج کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور اتنی بڑی جگہ نہیں ہے اس لئے کالج کے اکثر پروگرام اسی ہال میں ہوتے ہیں ۔ جن میں سے کچھ میں ناچنا، گانا بجانا بھی ہوتا ہے جس میں لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیاں بھی شامل ہوتی ہیں۔ کیا اس ہال میں نماز جمعہ کا قیام آج جائزہے ؟
اس مسئلہ پر روشنی ڈال کر مفصل جواب ارسال فرمائیں تو عین نوازش ہوگی۔

Published on: Jan 15, 2018

جواب # 157900

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:507-434/L=4/1439



جمعہ وعیدین کے قیام کے مقاصد میں شان وشوکت کا اظہار بھی ہے ؛اس لیے جمعہ کی نماز جس قدر کم ہو مناسب ہے ،صورتِ مسئولہ میں اگر چہ ہال میں بھی جمعہ کی نماز ہو جائے گی مگر اولاً اس میں تو مسجد میں نماز کی ادائیگی کا ثواب نہیں ملے گا ثانیاً یہ قیامِ جمعہ کے مقاصد کے بھی خلاف ہے؛اس لیے اگر یہ ممکن ہو کہ اس ہال میں جمعہ کو موقوف کرکے کالج کے قریب کسی مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کرلی جائے تو یہ بہتر ہوگا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات