عبادات - جمعہ و عیدین

India

سوال # 154816

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام کہ:
(۱) جس مسجد کی ذریعہ آمدنی الحمد للہ ماہواری اخراجات سے زیادہ ہو یا یوں کہہ لیجئے کہ مسجد کی آمدنی سے مسجد کے ضروری اخراجات پورے ہو رہے ہوں، پھر اس صورت میں مسجد کے انتظامیہ یا دیگر حضرات بعد نماز جمعہ فوراً صفوں کے درمیان گلک گھما کر اور گلک بجا کر مسجد کے لیے چندہ کرتے ہیں، کیا یہ جائز ہے؟ اور اگر جائز نہیں! تو کیا یہ پیسہ مسجد کے استعمال میں لینا جائز ہے؟
(۲) اسی صورت میں ایسی مسجد کے لیے جس کی آمدنی معقول ہو، الوداع جمعہ یا عیدین یا دیگر مواقع پر مسجد کے مائک سے چندہ کرنا جائز ہے؟
براہ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب ارسال فرمائیں۔

Published on: Oct 11, 2017

جواب # 154816

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 27-11/L=1/1439



(۱،۲)اگر مسجد کو پیسے کی ضرورت نہ ہو ؛بلکہ اس کی آمدنی زائد از ضرورت ہو تو اس مسجد کے لیے بلاضرورت چندہ کرنا مناسب نہیں؛اس لیے اگر مسجد کی آمدنی معقول ہو تو ذمہ داران کو چاہیے کہ اس مسجد کے لیے چندہ نہ کریں ،خاص طور پرجمعہ کے بعد گلک گھما کر چندہ کرنے میں دوسری خرابیاں بھی ہیں، تاہم اگرچندہ کرلیا گیا ہے تو اس رقم کا مصارفِ مسجد میں صرف کرنا درست ہوگا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات