عبادات - جمعہ و عیدین

India

سوال # 147045

جناب مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ ہمارے یہاں جمعہ کی اذان سے پہلے لوگوکو ایک ندا دی جاتی ہے یا بعض جگہ نعت پڑھی جاتی ہے تو یہ عمل شرعا کیسا ہے ؟مدلل جواب دیکر شکریہ کا موقعہ دیں۔

Published on: Dec 21, 2016

جواب # 147045

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 216-155/N=3/1438



 



جمعہ کے دن جمعہ کی اذان اول یا ثانی سے پہلے مسجد کے مائیک سے ندا دینا یا نعت پڑھنا امر محدث ہے،اس طرح کا کوئی عمل حضور صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام ، تابعین عظام وغیرہم سے ثابت نہیں؛ اس لیے اس طرح کی نئی چیزیں بند کردینی چاہیے؛ کیوں کہ ایسی ہی چیزیں دین میں بدعت ہوتی ہیں یا آگے چل کربدعت ہوجاتی ہیں، اللہ تعالی بدعات وخرافات سے ہم سب کی حفاظت فرمائیں۔ قال الشاطبي فی الموافقات (۳:۵۳):ومن أجل ذلک قال حذیفة رضي اللہ عنہ: کل عادة لم یتعبدھا أصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فلا تعبدوھا فإن الأول لم یدع للآخر مقالاً فاتقوا اللہ یا معشر القراء وخذوا بطریق من کان قبلکم ونحوہ لابن مسعود وأیضا وقد تقدم من ذلک کثیر اھ،وقال في مشکاة المصابیح (کتاب الإیمان ، باب الاعتصام بالکتاب والسنة، الفصل الأول، ص ۲۷، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)عن عائشة رضي اللہ عنھا قالت: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:من أحدث في أمرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد متفق علیہ، وعن جابر رضي اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: أما بعد فإن خیر الحدیث کتاب اللہ وخیر الھدي ھدي محمد صلی اللہ علیہ وسلم وشر الأمور محدثاتھا وکل بدعة ضلالة رواہ مسلم اھ ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات