عبادات - جمعہ و عیدین

India

سوال # 146772

ہم کئی سال سے غیر مقلدین کی طرف سے بہت سے مسائل کا سامنا کررہے ہیں، ان میں سے ایک جمعہ سے اور جمعہ کے بعد سنت کا مسئلہ ہے ، وہ جمعہ سے پہلے سنت نماز کی مخالفت کرتے ہیں اور اس کو بدعت قرار دیتے ہیں، اس لیے ہمیں کچھ تفصیل فراہم کریں۔ ہم آپ کے شکر گذار ہوں گے، میں ایسی جگہ پہ ہوں جہاں کتابیں نہیں مل سکتی ہیں۔ براہ کرم، مطالعہ کرنے کے لیے کتابوں کے حوالے دیں اور جتنا ہوسکے تفصیل سے بتائیں تاکہ ہمیں اطمنان ہوجائے۔

Published on: Dec 28, 2016

جواب # 146772

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 284-044/D=3/1438



 



جمعہ سے پہلے چار رکعت نماز پڑھنا صحیح سند کے ساتھ نبی علیہ السلام اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین سے قولاً و فعلاً ثابت ہے اور یہی جمہور کا مسلک ہے، اس کو بدعت کہنا غلط ہے، ذیل میں چند احادیث و آثار پیش کئے جاتے ہیں۔



(۱) ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ حضور علیہ السلام جمعہ سے پہلے چار رکعت نماز پڑھتے تھے عن ابن عباس کان النبي صلی اللہ علیہ وسلم یرکع قبل الجمعہ أربعاً لایفصل فی شيء منہن (ابن ماجہ، رقم: ۱۱۲۹) حافظ ابوزرعہ عراقی نے فرمایا اس حدیث کے متن (کان النبي یرکع الخ ) کو ابو الحسن خلعی نے اپنی کتاب فوائد میں جید اور عمدہ سند کے ساتھ نقل کیا ہے والمتن المذکور رواہ أبوالحسن الخلعی فی فوائدہ باسناد جید (طرح التثریب: ۳/۴۱، ط:المصریة القدیمة) نیز حافظ زین الدین عراقی نے بھی اس کی سند کو جید قرار دیا (فیض القدیر شرح جامع الصغیر (۵/۲۱۶، ط: التجاریة)



(۲) حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یصلی قبل الجمعة أربعاً وبعدہا أربعاً یجعل التسلیم فی آخرہن رکعة (معجم اوسط: ۲/۱۷۲، ط: قاہرة۔ معجم ابن الاعرابی (۲/۴۴۸) حضور علیہ السلام جمعہ سے پہلے چار رکعت اور جمعہ کے بعد چار رکعت ایک سلام سے پڑھتے تھے، ان احادیث کے علاوہ ایک حدیث حضرت ابوہریرہ سے شرح مشکل الاثار (۱۰/۲۹۸، ط: الرسالہ) اور ایک حدیث معجم اوسط (۴/۱۹۶) میں ابن مسعود سے مروی ہے۔



(۳) اتباع سنت میں مشہور صحابی حضرت عبداللہ بن عمر جمعہ سے پہلے چار رکعت پڑھتے تھے عن عبد اللہ بن عمر أنہ کان یصلی قبل الجمعہ أربعاً لایفصل بینہن بسلام ثم بعد الجمعہ رکعتین ثم أربعاً (طحاوی شریف: ۱/۳۳۵، ط: عالم الکتب) ۔



(۴) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم اور صحابہ میں بلند پایہ کے فقیہ حضرت عبداللہ بن مسعود بھی جمعہ سے پہلے چار رکعت پڑھتے تھے (طحاوی: ۱/۳۳۵) اور لوگوں کو جمعہ سے پہلے چار رکعت پڑھنے کا حکم فرماتے تھے عن أبي عبد الرحمن السلمی قال کان ابن مسعود یأمرنا أن نصلي قبل الجمعہ أربعاً حتی جاء نا علی فأمرنا أن نصلی بعدہا رکعتین ثم أربعاً (مصنف عبد الرزاق: ۳/۲۴۷، ط: اسلامی) اس حدیث کی سند صحیح ہے (وروایة لابن حجر: ۱/۲۱۷، ط: المعرفة) ۔



(۵) مشہور تابعی حضرت عمرو بن سعید بن العاص فرماتے ہیں کہ صحابہ جمعہ سے پہلے چار رکعت پڑھتے تھے کنت أری أصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فإذا ازالت الشمس یوم الجمعة قاموا فصلوا أربعاً (التمہید لما فی الموٴطا من المعانی والاسانید: ۴/۲۶) ۔



(۶) حافظ ابن رجب فرماتے ہیں کہ جمعہ سے پہلے چار رکعت پڑھنا جمہور کا مسلک ہے وقد اختلف فی الصلاة قبل الجمعہ ہل ہی من السنن الرواتب ․․․․․ ام ہی مستحبة مرغب فیہا کالصلاة قبل العصر وأکثر العلماء علی أنہا سنة راتبة ․․․․ (فتح الباری شرح البخاری لابن رجب: ۸/۳۳۳، ط: مدینة منورہ) نیز غیر مقلدین علماء کے نزدیک بھی جمعہ سے پہلے چار رکعت بطور نفل پڑھنا جائز ہے چنانچہ غیر مقلدین عالم شمس الحق عظیم آبادی لکھتے ہیں کہ والحاصل أن الصلاة قبل الجمعة مرغب فیہا عموماً وخصوصاً (عون المعبود: ۳/۳۳۵، ط: العلمیة) آپ حق پر قائم رہیں اور ذیل کی کتابوں کا مطالعہ کریں:



۱- محاضرات بررد غیر مقلدیت۔



۲- چند اہم فتاوی۔



۳- ایضاح الادلة۔



۴- تجلیات صفدر۔



۵- مطالعہ غیر مقلدیت۔



۶- حدیث اور اہل حدیث۔



۷- قرآن حدیث اور مسلک اہل حدیث۔



۸- ہند و پاک میں فرقہ اہل حدیث کا تحقیقی جائزہ۔



۹- تقابلی مطالعہ۔



۱۰- جی ہاں فقہ حنفی قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے وغیرہ، اللہ تعالیٰ آپ کو حق پر قائم و دائم رکھیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات