عبادات - جمعہ و عیدین

india

سوال # 145651

ہمارے ایک دوست ہیں جو سی، آر، پی، ایف کیمپ جو کہ آرمی کا کیمپ ہے وہاں پر آرمی میں جو ان ہیں۔ پتہ: سی، آر، پی، ایف کیمپ نزد بدھی پور، ضلع: جالندھر، پنجاب میں اُن کی پوسٹنگ ہوئی ہے تو اس کیمپ میں ایک مسجد ، گوردوارہ، مندر اور چرچ بھی ہے تو اُن کو وہاں پر نماز پڑھانے کی ذمہ داری دی گئی ہے، حالانکہ پہلے وہاں پر جوان نہیں بلکہ باہر سے کسی امام کو بلا کر نماز ادا کروائی جاتی تھی لیکن اب نیا ڈی، آئی، جی کے آنے کے بعد وہاں پرامام باہر سے آنے کی اجازت نہیں ہے، کیونکہ کیمپ کی سکیورٹی کا مسئلہ ہے، تو اب مسئلہ یہ ہے کہ جو وہاں پر نماز پڑھاتے ہیں ان کا نام ناصر احمد ہے کچھ دن پہلے کسی امام نے یہ کہہ دیا کہ آپ کو ڈاڑھی نہیں ہے تو آپ نماز نہیں پڑھا سکتے، جب کہ فوج میں ڈاڑھی نہیں رکھتے، او رپھر یہ کہا کہ جمعہ کی نماز بھی نہیں ہو سکتی، یہاں پر جبکہ جب سے وہ مسجد آباد ہے وہاں پر پنج گانہ نماز کے ساتھ جمعہ کی نماز بھی ہو رہی ہے، وہ آرمی کیمپ ضلع جالندھر میں صرف بارہ کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے، اس کے چاروں طرف اور بھی بہت سے گاوٴں ہیں اور خود آرمی کیمپ میں کم سے کم دو ہزار سے زیادہ مکان ہے، اس میں مسلم جوانوں کی آبادی چالیس فیصد کے قریب ہے، تو کیا ایسے میں وہاں پر جمعہ کی نماز یا پنج گانہ نماز ہو جائے گی یا نہیں؟ اور جو نماز پڑھا رہے ہیں وہ نماز پڑھا سکتے ہیں یا نہیں؟

Published on: Nov 13, 2016

جواب # 145651

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 077-043/B=2/1438



 



کیمپ کی سیکورٹی کا مسئلہ اہم ہونے کی وجہ سے اگر سرکار کسی باہری باشرع کو امام پنج وقتہ یا امام جمعہ نہیں بنا سکتی ہے تو بدرجہ مجبوری فوجی مسلمانوں کو چاہئے کہ داڑھی منڈے ہی کے پیچھے پانچوں نماز پڑھ لیا کریں اور جمعہ بھی پڑھ لیا کریں نماز ان کے پیچھے ہو جائے گی مگر مکروہ تحریمی ہوگی۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات