عبادات - جمعہ و عیدین

Barbados

سوال # 14295



محترم و مکرم مفتی
صاحب،
السلام علیکم ورحمہ الله وبرکاتہ، بعد سلام مسنون عرض یہ
ہے مغربی ممالک
میں جمعہ کےدن کی چھٹی نہیں ہوتی ہے۔
اکثر لوگ کام پر جاتے ہیں اور دکان
دفتر سے چھٹی لیکر جمعہ میں آتے ہیں
۔ ہماری مسجد میں مشاہدہ ہے کہ بہت سے
لوگ اذان اول کے بعد ایسے کاموں میں
مشغول رہتے ہیں جو سعی کے خلاف ہے۔
وجہ اس کی یہ ہے کہ اذان اول ۱۲:۱۵ کو ہوتی ہے جبکہ انکی چھٹی ۱۲ بجے، ۱۲:۱۵ کے بعد ہوتی ہے۔ لوگ گھر جاکر
ضروریات سے فارغ ہوجاتے ہیں تاکہ نماز
کے بعد وہ دو بارہ کام پر جاسکیں۔
بندہ نے یہ بھی دیکھا کہ برطانیہ کی اکژ
مسجدوں
میں جہاں جہاں جانا ہوا، جمعہ کے دن کی ترتیب یہ رہتی ہے کہ پہلے
وعظ ونصیحت ہوتی ہے، پھر اذانِ اول، پھر سنتیں پھر اذان
ثانی و خطبہ۔ اس
مسئلہ میں کچھ جستجو کے بعد بندہ نے
مندرجہ باتیں دیکھیں۔



 ۱ (حضرت
مفتی رشید احمد لدھیانوی
نے احسن الفتاوی
میں لکھاہے کہ
: آج کل نماز جمعہ سے قبل تقریر کا دستور ہوگیا ہے جسکی
وجہ سے اذان اول اور
خطبہ کے درمیان بہت وقفہ رکھاجاتا ہے
جس کی وجہ سے لوگ اذان اول سنکر
فوراً جمعہ کی تیاری میں مشغول نہیں
ہوتے انکے اس گناہ کا سبب مسجد کی
منتظمہ ہے اس لیے منتظمہ بھی سخت گنہگار
ہوگی۔ منتظمہ پر لازم ہے کہ اذانِ
اول وخطبہ کے درمیان زیادہ فصل نہ
رکھیں۔ (احسن الفتاوی جلد
۴ ص ۱۱۴)



 ۲ (مفتی
محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے لکھا ہے کہ
: لہذا منتظمیں کو
چاہیے کہ وہ زوال کے بعد جلدی جمعہ اداء کیا کریں اور نیز
اذان
اول اور خطبہ کے درمیان زیادہ وقفہ نہ کیا کریں۔ اور اسکی صورت یہ ہے
کہ ۱)
اذان
اول کے کافی بعد تقریر شروع کرنے کے بجائے اذان اول کے فوراً بعد
تقریر شروع کیا جائے اورمختصر تقریر کے بعد خطبہ کے لیے
اذان دی جائے اور
پھر خطبہ اور نماز پڑھ لی جائے،



۲) یا اذان اول، تقریر کے فوراً بعد ہو اور اس کے بعد صرف
اتنا وقت ہو کہ
جو لوگ ابھی مسجد میں نہیں آئے وہ
مسجد میں آکر سنتیں پڑھ سکیں اور اکے
بعد اذان ثانی اور خطبہ و نماز ہو۔ (فتاوی
عثمانی جلد
۱ ص ۵۸۲) ۳)



اسی طرح دار العلوم بنوری ٹاون سے ایک فتوی دیکھا (جو منسلک ہے)
جس میں لکھا ہے کہ
: سوال:ہماری جامع
مسجد کےخطیب صاحب نے جمعہ کی پہلی اذان کو موخر کیا ۔
وہ کہتا
ہے کہ پہلے جب اذان ہو تو لوگ مسجد میں نہیں آتے ہیں، اسلئے وہ
گنہگا ہوتے ہیں ۔ وہ جمعہ کی دونوں اذانوں کے درمیان
صرف چار رکعت کا وقفہ
رکھتا ہے۔ کیا پہلے ایسا کبھی ہوا؟
تفصیل کے ساتھ جوب طلب ہے۔ جواب
: متعلقہ مسجد کی نمازی پہلی اذان کے
بعد مسجد میں آنے میں کوتاہی کرتے ہوں
تو وہ اپنی اس کوتاہی کی وجہ سے
شرعاً گنہگار ہیں۔ اس لیے امام موصوف نے
پہلی
اذان کو اگر وقت سے محض اس لیے موخر کروادیا کہ لوگ سب مسجد میں
آجائیں اور گنہگا ہونے سے بچ جائے اور ان کے آنے کے بعد
پہلی اذان اور پھر
وقفے کے بعد دوسری اذان کا اہتمام ہوتا
ہے تو اس میں شرعاً کوئی قباحت
نہیں بلکہ بلا شبہ جائز اور درست ہے۔
لما فی معارف السنن للبنوری رحمه
الله : وبالجملة فهذا الاذان کان قبل التاذين بين يدی الخطيب
و کان فی اول وقت
الظهر متصلاً
بالزوال (ج
۴ ص ۳۹۶) و فی فتح الباری: و يستفاد منه ترک المصلحة لامن الوقوع فی
المفسدة وان الامام يسوس رعيته
بما فيه
اصلاحهم ولا کان مفضولاً ما لم يکن حراماً (ج
۱/ ص۴۲۲) وعقد الامام البخاری رحمه الله تعالی باباً
المسمی بباب من ترک بعض
الاختيار
مخافة ان يقصر فهم بعض الناس فيقعوا فی اشد منه (ج
۱ ص۲۴) مذکورہ دینی مصلحت (لوگوں کو ترک
سعی کے گناہ سے بچانا) کے ساتھ ساتھ ایک
انتظامی
فائدہ یہ ہوگا کہ جنوری،فروری اور شروع مارچ میں جب زوال کا وقت
۱۲:۱۵ کے بعد رہتا ہے زوال کے انتظار میں
بیان موخرہوتا ہے اور بہت مختصر
وقت رہتا ہے۔ بیان مقدم اور اذانِ
اول موخر کرنے میں بیان اپنے وقت پر
شروع ہوسکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان
فتاوی اور اخیری انتظامی امر کی وجہ سے
مندرجہ ذیل ترتیب رکھنے میں کوئی
حرج ہے
۱۲:۱۵ وعظ ۱۲:۳۵
اذان اول سنتیں،
خطبہ اور نماز بندہ ہاشم محمد عفی
عنہ



Published on: Jul 5, 2009

جواب # 14295

بسم الله الرحمن الرحيم



فتوی: 1494=286th



 



بارہ بج کر پندرہ
منٹ (12:15) پر وعظ کی ابتداء ہو اور بارہ بج کر پینتیس منٹ (12:35) پر اذان اول
اور سنتیں خطبہ ونماز ہوجائے، تو صورتِ مسئولہ میں درست ہے کچھ حرج نہیں، ایک صورت
یہ بھی ہے کہ بارہ بج کر پینتیس منٹ (12:35) پر اذانِ اول پھر خطبہ ونمازِ فرض اس
کے بعد سنت ونوافل اور سب سے فارغ ہوکر اطمینان سے وعظ، بیان، تقریر ہوا کرے، اس
صورت میں قدرے تاخیر بھی ہوجائے تو عامةً موجب کلفت نہیں ہوتی، سامعین واعظین سب
کو اطمینان رہتا ہے، برخلاف پہلی صورت میں کہ کوئی ضروری بات چل رہی ہو اور وعظ کا
وقت مقررہ ختم ہوجائے تو ہرشخص کی نظر گھڑی گھنٹہ پر مرکوز ہوجاتی ہے اور بالخصوص
ضعفاء کمزور بیمار اصحاب الحاجت نمازی حضرات کا سکون وطمینان وخشوع وخضوع بعض
مرتبہ سب فنا ہوجاتا ہے، ان امور پر بھی ذمہ دارانِ مسجد غور فرمالیں۔




واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات