متفرقات - اسلامی نام

Saudi Arabia

سوال # 155005

میں اپنے بیٹے کا نام ” محمد عبدا لمنان“ رکھنا چاہتاہوں،مگر مجھے اللہ ننانوے اسمائے حسنی میں یہ نام نہیں ملا، مزید یہ کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ اللہ کے اس نام کا ذکر حدیث میں آیاہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ میں اپنے بیٹے کا نام ” محمد منان“ رکھ سکتاہوں؟یا ”محمد عبدا لمنان“ نام رکھنا ضروری ہے؟”محمد عبدا لمنان“ میرے والد کا نام ہے، اس لیے میں اپنے بیٹے کو اس نام سے نہیں پکار سکتا، اس لیے میں اس کو” حمزہ“ کہہ کر پکار نا چاہتاہوں، لیکن میں اس نام کو سرکاری کاغذات جیسے سرٹیفیکٹ ، پاسپورٹ، وغیرہ، میں استعمال نہیں کروں گا، بلکہ میں اس کا نام محمد عبد المنان رہے گا، کیا ایسا کرنے میں کوئی حرج ہے؟ جزاک للہ

Published on: Oct 30, 2017

جواب # 155005

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:24-33/sd=2/1439



المنان یہ اللہ کے صفاتی ناموں میں سے ہے ، اس لیے اس سے پہلے ”عبد“ لگا کر عبد المنان نام رکھنا چاہیے ،اسی طرح پکارتے وقت عبد لگا کر ہی پکارنا چاہئے ، صرف منان کہہ کر پکارنا اچھا نہیں، ہاں بیٹے کا اصل نام عبد المنان رکھ کر آپ اپنے طور پر کسی دوسرے نام سے اُس کو پکاریں، تو اس میں مضائقہ نہیں ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات