متفرقات - اسلامی نام

Afghanistan

سوال # 152694

میں نے اپنے بیٹے کا نام سیف القہار رکھا ہے اور ارادہ کیا ہے کہ دوسرا بیٹا اللہ دیدے تو سیف الجبار رکھوں گا مگر لوگ کہتے ہیں یہ نام تبدیل کرلو کیا میں یہ نام تبدیل کرلوں؟

Published on: Jul 19, 2017

جواب # 152694

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 1023-851/D=10/1438



آپ نے اپنی پسند کے مطابق نام رکھ دیا تو اب بدلنے کی کوئی وجہ نہیں ہے؛ لہٰذا تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جس طرح سیف اللہ نام رکھنا درست ہے اسی طرح سیف القہار بھی رکھنا جائز ہے، جب کہ سیف اللہ لقب تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید کے لیے منتخب فرمایا تھا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات