عقائد و ایمانیات - اسلامی عقائد

India

سوال # 310

ایک چیز ذہن میں کبھی کبھی آتی ہے کہ ہر چیز زندگی میں فکس ہے تو پھر کسی بھی کام کے لیے گناہ یا ثواب کیوں ہوتا ہے؟ کیوں کہ وہ تو ہونا ہی تھا ۔ ایک عالم سے پوچھا تو بولے کہ عرش معلی پر کسی چیز کے دو فیصلے لکھے ہوتے ہیں کہ اگر کسی نے اس کے حق میں دعا کی تو یہ ہوگا ، نہیں تو وہ ہوگا۔ یا اگر ایسے موڑ پر اس نے یہ کیا تو یہ ہوگا، نہیں تو کچھ اور ہوگا۔ کیا یہ بات صحیح ہے؟ یا کوشش سے فیصلے بدلتے ہیں یا دعا سے فیصلے بدلتے ہیں؟

Published on: May 7, 2007

جواب # 310

بسم الله الرحمن الرحيم

(فتوى: 431/ب=447/ب)


 


اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بالکل مجبور محض نہیں بنایا بلکہ اسے کچھ اختیار بھی دیا ہے، ساتھ ہی ساتھ خیر و شر کی تفصیلات بتادی ہیں، ہمیں عقل و شعور بھی دیا ہے کہ ہم ناجائز و جائز میں، حلال و حرام میں تمیز کرسکیں۔ پس ان اصولوں کے پیش نظر اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری کے کام کو اختیار کرنے میں ثواب اور اس کی نافرمانی کے کام کو اختیار کرنے پر عذاب ملتا ہے۔ ہمیں ان دونوں کے کرنے نہ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، اسی اختیار کو عملی جامہ پہنانے پر ثواب و عذاب ہوتا ہے۔ عالم صاحب کی بتائی ہوئی بات کہیں نظر سے نہیں گذری۔ کوشش اور دعا سے جو فیصلے بدلتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ تقدیر میں پہلے ہی یہ بھی لکھا گیا ہے کہ یہ شخص فلاں کوشش کرے گا تو یہ فیصلہ ہوگا۔ اور یہ دعا کرے گا تو یہ فیصلہ ہوگا۔ یہ سب کچھ پہلے ہی سے لکھا ہوا ہے اور تقدیر میں لکھے ہوئے فیصلے کے خلاف کوئی دوسرا فیصلہ نہیں ہوتا۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات