عقائد و ایمانیات - اسلامی عقائد

Pakistan

سوال # 2855

منصب اولیاء کے بارے میں صحیح حدیث کے حوالے سے بتائیں۔ کیا غوث، قطب، ابدال، ولی وغیر ہم ہرزمانہ میں موجود ہوتے ہیں اور کیا نظام قدرت میں ان کا کوئی عمل دخل ہے؟ براہ کرم، قرآن و حدیث اور بزرگان دین کی زندگیوں کی روشنی میں تفصیل سے بتائیں۔

Published on: Mar 3, 2008

جواب # 2855

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 139/ ل= 139/ ل


 


 عن شریح بن عبید قال: ذکر أھل الشام عند علي وقیل ألعنھم یا أمیر الموٴمنین قال: لا إني سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: الأبدال یکونون بالشام وھم أربعون رجلاً کلما مات رجل أبدل اللّٰہ مکانہ الخ حضرت شریح بن عبید تابعی روایت کرتے ہیں کہ ایک موقع پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے اہل شام کا ذکر کیا گیا اور ان سے کہا گیا کہ اے امیرالموٴمنین! شام والوں پر لعنت کیجیے حضرت علی نے کہا نہیں، میں نے رسول کریم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ابدال شام میں ہوتے ہیں اور وہ چالیس ہیں، جب ان میں سے کوئی شخص مرجاتا ہے تو اللہ اس کی جگہ دوسرے شخص کو مقرر کردیتا ہے، ان (ابدال) کے وجود و برکت سے بارش ہوتی ہے، ان کی مدد سے دشمنان دین سے بدلہ لیا جاتا ہے اور انھیں کی برکت سے اہل شام سے عذاب کو دفع کیا جاتا ہے (مشکاة: ۵۸۲) اسی کی شرح میں ملا علی قاری نے حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت نقل کی، جس سے غوث، قطب، ولی وغیرہ کے وجود کا پتہ چلتا ہے، نیز مذکورہ بالا حدیث سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ ان کی برکت سے بارش، دشمنوں کے مقابل میں مدد، اور عذاب کو دفع کیا جاتا ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: مرقاة: ج۱۱ ص۴۶۰، ط امدادیہ پاکستان) مظاہر حق جدید، ج۷ ص۵۲۸) دلائل السلوک، تعلیم الدین، رسائل ابن عابدین وغیرہ۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات