عقائد و ایمانیات - اسلامی عقائد

Pakistan

سوال # 2852

میں نے فضائل اعمال کے باب زیارت قبر مبارک حدیث نمبر ۵۵۵میں پڑھاہے کہ سید احمد رفیع نبی اکر م صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دست مبارک اپنے ہاتھ دینے کی درخوست کی کہ تاکہ وہ دست مبارک کا بوسہ لے سکے، اس کو ۹۰/ ہزار لوگوں نے دیکھا ، حضرت جیلانی رحمتہ اللہ علیہ بھی ان میں شامل تھے، کیا یہ سچ ہے؟ ایک دوسرے واقعہ میں ہے کہ یمنی حاجی جو صرف رسول اللہ علیہ وسلم کو سلام کرنے کی وجہ سے اپنے قافلہ سے پیچھے رہ گئے تھے، خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے ساتھ لے لیا اور مکہ آگئے ، جب وہ بیدار ہوئے تو وہ مکہ میں تھے، کیا ایساممکن ہے؟ میں یہ دونوں واقعات پڑھ کر بہت تذبذب میں ہوں، براہ کرم، اس کی وضاحت فرمائیں۔

Published on: Feb 16, 2008

جواب # 2852

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 117/ ھ= 36/ تھ


 


ایسا ممکن تھا اور ہے تب ہی تو ایسے واقعات پیش آئے اورآتے ہیں، شرعاً عقلاً نقلاً تو کچھ استبعاد نہیں بلکہ ممکنات میں سے ہیں اللہ پاک کی قدرت سے یہ امورخارج نہیں۔ البتہ ہم جیسے لوگوں کے نزدیک حیرت انگیز ہوسکتے ہیں جس طرح نئی نئی ایجادات بھی عامة لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا کرتی ہیں،ہوائی جہاز، موبائل، فیکس ، وائرلیس وغیرہ آلات سے انجام پانے والے امور بھی حیرت انگیز ہیں، کچھ عرصہ قبل اگر کہا جاتا کہ ایک آلہ ایسا ایجاد ہونے والا ہے کہ مثل ماچس کی ڈبی کے ہوگا اس میں نہ تار ہوگا نہ اور کچھ ظاہری اتصال مگر ایک آدمی یہاں کان پر لگائے گا اور دوسرا اسی جیسی ڈبی (موبائل) پچاس ہزار میل دوری پر لگائے گا اور دونوں اسی طرح گفتگو کریں گے کہ جس طرح دوفٹ کے فاصلہ پر بیٹھ کر کرتے ہیں، تو شاید اس جیسی بات کو سن کر بہت لوگ تو بے ساختہ ہنس ہی دیتے اور کبھی اس کو صحیح قرار دینے کو تیار نہ ہوتے، مگر اب ان جیسی چیزوں کی کثرت نے حیرت کو ختم کردیا، معلوم نہیں کہ واقعاتِ مذکورہ میں جناب کو بہت تذبذب کس طرح پیش آیا ہے؟ اگر اس کو صاف و واضح انداز پر تحریر فرمائیں تو ان شاء اللہ اس کو سامنے رکھ کر تفصیل سے جواب لکھ دیا جائے گا۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات