عقائد و ایمانیات - اسلامی عقائد

Pakistan

سوال # 2688

لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہماری بات صرف اس وقت سن سکتے ہیں جب ہم آپ کے روضہ اقدس کے سامنے ہوں گے اور درود ابراہیم پڑھیں گے اور آپ صلے اللہ علیہ وسلم ہمیں جواب بھی دیتے ہیں۔ براہ کرم، اس پر روشنی ڈالیں۔

Published on: Feb 9, 2008

جواب # 2688

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 62/ ل= 62/ ب


 


درودِ ابراہیمی کی کوئی تخصیص نہیں کوئی بھی درود آپ علیہ السلام کے روضہٴ اقدس کے پاس پڑھا جائے تو آپ علیہ السلام اس کو سنتے اور جواب دیتے ہیں، حدیث شریف میں ہے: عن أبي ھریرة رضي اللّہ عنہ قال قال رسول اللّہ صلی اللہ علیہ وسلم من صلی عليّ عند قبري سمعتہ ومن صلی عليّ نائیًا أبلغتہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ جو شخص میرے اوپر میری قبر کے قریب درود بھیجتا ہے میں اس کو خود سنتا ہوں اور جو دور سے مجھ پر درود بھیجتا ہے، وہ مجھ کو پہنچا دیا جاتا ہے (مشکوٰة: ج۱ ص۸۷) اور ابوداوٴد شریف میں ہے: عن أبي ھریرة أن رسول اللّہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ما من أحد یسلم علي إلا ردّ اللّہ علی روحي حتی أرد علیہ السلام (ابوداوٴد: ج۱، ص۲۷۹) اوراعلاء السنن میں ہے: قال السبکي: وسیأتي ما یدل علی أنہ صلی اللہ علیہ وسلم یسمع من یسلم علیہ عند قبرہ ویرد علیہ عالما بحضورہ (إعلاء السنن: ج۱۰، ج۵۰۱، ط کراچی پاکستان)


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات