عقائد و ایمانیات - اسلامی عقائد

Pakistan

سوال # 249

میرا سوال عصمت انبیاء اور صحابہٴ کرام (رضی اللہ عنہم) کے معیار حق ہونے کے بارے میں ہے:


(1)    عصمت کا مطلب کیا ہے؟کیا تمام انبیاء معصوم ہوتے ہیں؟


(2)    کیا صحابہٴ کرام (رضی اللہ عنہم) معیار حق ہیں ؟ اگر ہیں تو کیا اجتماعی طور پر یا انفرادی طور پر؟


(3)    نیز، یہ دونوں عقیدے ضروریات دین میں ہیں یا ضروریات اہل سنت والجماعت میں سے؟ اور ان کے منکروں کا کیا حکم ہے؟

Published on: May 23, 2007

جواب # 249

بسم الله الرحمن الرحيم

(فتوى: 301/ن=297/ن)


 


(1)  انبیاء علیہم الصلاة والسلام کی عصمت پر اجماع امت ہے۔ تمام انبیاء کفر و شرک، کبائر و صغائر سے پاک ہیں، والأنبیاء علیہم الصلاة والسلام کلہم منزہون عن الصغائر والکتبائر والکفر والقبائح أي جمیعہم الشامل لرسلہم ومشاہیرہم وغیرہم أولہم آدم علیہ الصلاة والسلام علی ما ثبت بالکتاب والسنة و إجماع الأمة منزہون أي معصومون ... ثم ہذہ العصمة ثابتة للأنبیاء علیہم السلام قبل النبوة وبعدہا علی الأصح (شرح فقہ أکبر: ص68 قولہ تعالیٰ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَاماً قَالَ وَمِن ذُرِّيَّتِي قَالَ لاَ يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ [البقرة : 124]  وفیہ دلالة علی عصمة الأنبیاء علیہم الصلاة والسلام عن الکبائر قبل البعثة لأن کل ذنب ظلم وکثیر من الذنوب یسمّی ظلمًا في الشرع فدلت الآیة علی أن نیل النبوة لا یجامع الظلم السابق ... فالحقّ أن المراد بالظلم خلاف العدل فکل نبي معصوم عن الکبائر من الذنوب. فما نقل عن الأنبیاء علیہم الصلاة والسلام مما یشعر بکذب أو معصیة فما کان منقولا بطریق الآحاد فمردود وما کان منقولا بطریق التواتر فمصروف عن ظاہرہ إن أمکن وإلا فمحمول علی ترک الأولی (أحکام القرآن: 1/66، ط پاکستان)


(2)  جی ہاں صحابہٴ کرام معیار حق ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے اقوال و افعال حق و باطل کی کسوٹی ہیں، ان حضرات نے جو فرمایا یا جو دینی کام کیا وہ ہمارے لیے مشعل راہ، حجت اور ذریعہٴ فلاح ہیں۔ لقولہ تعالیٰ : وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ [النساء : 115] وقولہ تعالیٰ: وَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (الآیة) ولاشک ان تابع المفلح مفلح (تحفہٴ اثنا عشریہ: ص601) وقولہ علیہ السلام: وتفترق أمتي علی ثلث وسبعین ملة کلہم في النار إلا ملّة واحدة قالو: من ہي یا رسول اللّہ قال: ما أنا علیہ وأصحابي (مشکوٰة: ص30) وقولہ علیہ السلام علیکم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدین المہدیین عضوا علیہا بالنواجذ: مشکوٰة: ص30) وعن عمر بن الخطّاب رضي اللّہ عنہ قال سمعت رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم یقول سألت ربي عن اختلاف أصحابي من بعد فأوحیٰ إلیّ یا محمّد إنّ أصحابک عندي بمنزلة النجوم في السماء بعضہا أقوی من بعض ولکل نورٌ فمن أخذ بشيء مما ہم علیہ من اختلافہم فہو عندي علی ہدیً قال: وقال رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم: أصحابي کالنجوم فبأیہم اقتدیتم اہتدیتم (مشکوٰة: ص554) مذکورہ احادیث سے واضح ہوگیا کہ صحابہ میں سے ہر ایک انفرادی طور پر معیار حق ہے۔


(3)  انبیاء علیہم السلام کی عصمت اور صحابہٴ کرام کا معیارِ حق ہونا اہل سنت والجماعت کے اجماعی مسائل میں سے ہے، ان میں سے کسی ایک چیز کا منکر اہل سنت والجماعت سے خارج ہے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات