عقائد و ایمانیات - اسلامی عقائد

India

سوال # 2322

ایک سلفی کہتا ہے کہ رسول صلى الله عليه وسلم انتقال کرچکے ہیں اور آپ کے روضہ پر جانا اور دورد و سلام نہیں پڑھنا چاہیے کیوں کہ رسول صلى الله عليه وسلم انتقال کرچکے ہیں اور سلام کا جواب نہیں دے سکتے۔ قرآن و حدیث کے دلائل سے اس سلسلے میں رہ نمائی فرمائیں۔

Published on: Sep 11, 2007

جواب # 2322

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 605/ ن= 598/ ن


 


نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام انبیاء علیہم السلام اپنی قبروں میں حیات ہیں، عن أنس -رضي اللہ عنہ- أن النبي صلی اللہ عیلہ وسلم قال: الأنبیاء أحیاء في قبورھم یصلون (رواہ البیھقي) اگر کوئی شخص روضہٴ اقدس کے پاس درود وسلام پڑھتا ہے تو خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سنتے ہیں اور اگر کوئی دور سے پڑھتا ہے تو وہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچادیا جاتا ہے۔ عن أوس بن أوس الثقفي عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم أنہ قال: من أفضل أیّامکم یوم الجمعة فأکثروا علي الصلاة فیہ فإن صلاتکم تعرض علي قالوا یا رسول اللہ وکیف تعرض علیک صلاتنا وقد أرمت فقال: إن اللہ حرم علی الأرض أن تأکل أجسام الأنبیاء (رواہ أبوداوود والبیھقي) وقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من صلی علي عند قبري سمعتہ ومن صلی علي نائیا بلغتہ (الترغیب) اور امام بخاری نے تاریخ کبیر میں روایت کیا ہے عن عمار سمعت النبي صلی اللہ علیہ وسلم یقول: إن للّہ تعالی ملکاً أعطاہ أسماع الخلائق قائم علی قبري فما من أحد یصلي عليّ صلاة إلا بلغتها اور سعودی عرب کے سلفیوں کے فتاویٰ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر جاکر درود و سلام پڑھنے کا حکم مذکور ہے ثم ائت قبر النبي صلی اللہ علیہ وسلم فقل: السلام علیک أیها النبي ورحمة اللہ وبرکاتہ وأکثر من الصلاة والسلام علیہ (فتاوی اللجنة الدائمة: ج9ص116، ط: ریاض) اور نبی علیہ السلام، سلام کرنے والوں کا جواب بھی دیتے ہیں عن أبي هریرة -رضي اللہ عنہ- أن سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ما من أحد یسلم علي إلا ردّ اللہ علی روحي حتی أردّ علیہ السلام رواہ أبوداوٴد بسند صحیح)      


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات