عقائد و ایمانیات - اسلامی عقائد

India

سوال # 173280

میرا سوال یہ ہے کہ ہم مولوی حضرات سے یہ بار بار سنتے ہیں کہ ہر چیز اللہ پاک کے کہنے سے ہوتی ہے اور اس کے کہنے کے علاوہ ایک پتہ بہی نہین ہلتا ۔ تو جو لوگ خودکشی کرتے ہیں یا پھر نشہ کرتے ہیں اگر ہر چیز اللہ پاک کی مرضی سے ہوتا ہے تو پھر خودکشی حرام کیوں ہے پھر گناہ گار کو جہنم میں کیوں ڈالا جائیگا جبکہ ہر چیز اللہ پاک کے طرف سے ہوتی ہے ۔ اس کے لئے کچھ ایسا جواب دیں جو ہم کسی اور کو بھی اچھے طریقے سے سمجھاسکیں۔

Published on: Oct 22, 2019

جواب # 173280

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:52-65/sd=2/1440



 اگر آدمی خودکشی کرتا ہے یا کوئی گناہ کرتا ہے تو وہ اپنے اختیار سے کرتا ہے، اللہ تعالی نے انسان کو اختیار بھی دیا ہے، بالکل مجبور محض نہیں بنایا ہے، باقی اس مسئلے میں غور و فکر نہیں کرنا چاہیے اور موضوع بحث نہیں بنانا چاہیے، کام میں لگنا چاہیے ،صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم ایک دفعہ کسی گفتگو میں مشغول تھے، حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، فرمایا کہ کیا گفتگو کر رہے تھے؟ عرض کیا کہ تقدیر کے مسئلہ میں بات تھی، چہرہٴ مبارک غصہ سے سرخ ہوگیا اور فرمایا کہ ہلاک ہوگئے وہ لوگ جنھوں نے اس میں گفتگو کی۔ (مشکاة)



وأصل القدر سر اللّٰہ تعالی فی خلقہ، لم یطلع علی ذلک ملک مقرب، ولا نبی مرسل، والتعمق والنظر فی ذلک ذریعة الخذلان، وسلم الحرمان، ودرجة الطغیان، فالحذرکل الحذر من ذلک نظراً وفکراً ووسوسة، فان اللّٰہ تعالی طوی علم القدر عن أنامہ ونہاہم أن مرامہ۔ (شرح العقیدة الطحاویة لابن أبی العز الدمشقی، ص: ۱۸۸، بیروت )۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات