عقائد و ایمانیات - اسلامی عقائد

india

سوال # 172001

میرا سوال یہ ہے کہ اگر ہم قرآن پاک پڑھ کر اپنے اموات کو یہ بھیجیں کیا یہ ان تک پہنچ جاتا ہے اور اگر پہنچتا ہے تو اس کی دلیل کیا ہے؟

Published on: Jul 20, 2019

جواب # 172001

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1135-949/D=11/1440



جی ہاں پہونچ جاتا ہے احادیث سے اس کا ثبوت ہے اور فقہاء کرام نے اس حکم کو مستنبط کرکے فقہ کی کتابوں میں تحریر کیا ہے۔



(۱) عن علی رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال من مرّ علی المقابر وقرأ قل ہو اللہ أحد إحدی عشرة مرة ثم وہب اجرہا للاموات اعطی من الاجر بعدد الاموات ۔



(۲) وعن انس رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اقرء وا علی موتاکم یٰسٓ ۔ رواہ ابوداوٴد



(۳) عن عبد اللہ بن عمر قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول اذا مات احدکم فلا تحبسوہ واسرعوا بہ الیٰ قبرہ ولیقرأ عند رأسہ فاتحة البقرة وعند رجلہ بخاتمة البقرة (مشکاة، ص: ۱۴۹) (رواہ البیہقی فی شعب الایمان)



قال فی الدر المختار: الاصل ان کل من اتی بعبادة مالہ جعل ثوابہا لغیرہ وان نوی الخ



قال الشامی تحت قولہ بعبادة ما ای سواء کانت صلاة او صوماً او صدقةً او قرأة او ذکراً او طوافاً او حجاً او عمرةً او غیر ذالک الیٰ آخرہ کما فی الہندیہ (شامی: ۵/۱۰)



پس معلوم ہوا کہ جس طرح نماز روزہ حج عمرہ وغیرہ کا ثواب پہونچایا جا سکتا ہے اسی طرح تلاوت قرآن کا ثواب بھی پہونچتا ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات