عقائد و ایمانیات - اسلامی عقائد

India

سوال # 170923

حضرات علماء کرام مجھے امکان کذب پر کچھ دلائل مطلوب ہے، کہ کذب باری تعالی تحت قدرت ہے یا نہیں ؟کیوں کہ یہ لوگ بھی اپنے دلائل پیش کرتے ہیں* کیوں کہ چند بریلوی علماء ہیں جو کئی دنوں سے اس مسئلہ کو لیکر بڑا شور برپا کررہے ہیں ۔ اور بعض مرتبہ مناظرہ کا چیلنج بھی کرڈالتے ہیں ہمارے ساتھی اس موضوع کو نظر انداز کرتے رہیں مطالعہ اور دلائل نہ ہونے کی بنیاد پر ۔ *لیکن باطل ہیکہ ہماری خاموشی کو بزدلی سمجھ بیٹھا ہیکہ قوت گفتار نہیں ہے* مجھے آپ حضرات سے بہت زیادہ قوی امید ہے کہ آپ اس مسئلہ کے بارے میں توجہ فرمائیں گے اور حوالہ کے ساتھ اسکین بھی مل جائے تو بہت ۔ اور اس موضوع پر بحث کرنے کے لیئے کن چیزوں کا خیال رکھا جائے ۔ اور اس مسئلہ میں اصل اختلاف کیا ہے ؟ خلف وعید کا ہے یا امکان کذب کا ۔ کیوں کہ رضاخانی اس جگہ دھوکے سے کام لیتے ہیں۔ تو آپ حضرات رہنمائی فرمائیں۔

Published on: Jun 27, 2019

جواب # 170923

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1135-959/H=10/1440



رضاخانی لوگوں نے آپ کے سامنے کیا دلائل پیش کئے ہیں ان کو آپ نے نقل نہیں کیا اخیر میں آپ نے لکھا ہے رضاخانی اس جگہ دھوکہ سے کام لیتے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رضاخانیوں کی دھوکہ دہی سے تو آپ واقف ہی ہیں اگر اپنی استعداد علمی آپ لکھتے تو اس کو ملحوظ رکھ کر مزید رہنمائی کردی جاتی یہ بھی آپ نے نہیں لکھا کہ کن کن کتابوں کو آپ نے دیکھا ہے؟ باقی انصاف پسند طبائع کے لئے تو فتاویٰ رشیدیہ میں کتاب العقائد کا سب سے پہلا فتویٰ (بعنوان ”اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹ کی نسبت“ جو صفحہ ۹۳/ سے صفحہ ۹۷/ تک ہے) ہی کافی ہے اور اس میں بھی وہ خط کہ جو حضرت شیخ العرب والعجم حضرت حاجی امداد اللہ صاحب چشتی فاروقی رحمہ اللہ تعالیٰ رحمة واسعہ نے مولوی نذیر احمد خان صاحب رامپوری کے شبہات کے دفع فرمانے میں تحریر فرمایا ہے اُس مکتوب گرامی نے عمدہ وضاحت کرکے مسئلہ کو بالکل بے غبار کردیا ہے امید ہے کہ آپ کے پاس فتاویٰ رشیدیہ ہوگا اس کو پھر بغور پڑھ لیجئے اسی طرح فتاویٰ رحیمیہ میں بھی مدلل مفصل کلام ہے جو قدیم مطبوعات کی پہلی جلد میں ہے اگر کتب تفسیر میں تفسیر بیضاوی شریف میں آیت مبارکہ إن اللہ علیٰ کل شيء قدیر کی تفسیر ملاحظہ کرلیں گے تو ان شاء اللہ کوئی اشکال نہ رہے گا تاہم ان کتب کا مطالعہ کرنے کے بعد کوئی شبہ یا اشکال پیش آئے تو لکھ کر معلوم کرلیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات