عقائد و ایمانیات - اسلامی عقائد

Pakistan

سوال # 170871

حضرات مفتیان کرام سے مندرجہ ذیل صورت حال میں شرعی راہ نمائی مطلوب ہے ۔ ہمارا کمیوٹر کا کام ہے ۔ ہمارے پاس مختلف اداروں سے آرڈر آتے رہتے ہیں ۔ ادارہ اپنے پرچیزر کے ذریعے آرڈر کرتا ہے ۔ اب مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ پرچیزر کی ڈیمانڈ ہوتی ہے کہ ہم انوائس اصل سے بڑھا کر بنائیں ۔ اور اوپر کی رقم پرچیزر کا بینیفٹ بنے گا ۔ مارکیٹ میں سب ایسا ہی کرتے ہیں ۔ اس لیے اگر پرچیزر کی ڈیمانڈ کے مطابق انوائس نہ بنائیں بلکہ اصل قیمت کی انوائس بنائیں تو ہم سے کوئی خریداری نہیں کرے گا ۔ ایسے میں شریعت ہماری کیا راہ نمائی کرتی ہے ؟ کیا ہم نقصان کر لیں اور اصل قیمت کی انوائس بنائیں یا پرچیزر کے کہنے پر اس کی مرضی کی انوائس بنائیں؟ اس لیے کہ حرام اگر کھائے گا تو پرچیزر کھائے گا ہم نہیں ۔ ہمیں تو اپنی اصل رقم ہی ملے گی ۔

Published on: Jun 27, 2019

جواب # 170871

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 919-836/M=10/1440



جو چیز جس قیمت کی ہے اس کی وہی قیمت لکھنی چاہئے پرچیزر کے کہنے پر اصل قیمت سے بڑھاکر انوائس بنانا درست نہیں، یہ تعاون علی الاثم ہے اس سے بچنا چاہئے اور صحیح قیمت تحریر کرنی چاہئے، اور اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہئے رزق دینا اللہ کے ذمہ ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات