عقائد و ایمانیات - اسلامی عقائد

Pakistan

سوال # 170704

پوچھنا یہ ہے کہ اگر کوئی شخص تورات ، زبور اور انجیل کو اللہ پاک کی کتابیں مانیں کلام اللہ نہ کہے، اور توجیہ یہ بیان کرے کہ اللہ پاک نے یہ کتاب کی شکل میں اتاریں ، کلام نہیں فرمایا ،اس لئے یہ اللہ کی کتابیں تو ہیں کلام اللہ نہیں ، تو ایسا کہنا کیسا ہے، کیا ایسا کہنے سے آدمی ضروریات دین کا انکار کرنے کیوجہ سے کافر ہوجائے گا۔ جواب قرآن و حدیث اور فقہاء کرام کے اقوال کی روشنی میں عنایت فرمائیں۔ اللہ پاک آپ کو بہت جزائے خیر عطا فرمائے۔

Published on: Jun 27, 2019

جواب # 170704

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 496-825/D=10/1440



توریت زبور انجیل وغیرہ پچھلی آسمانی کتابیں کلام نفسی ہونے کے اعتبار سے کلام اللہ کا مصداق ہیں جیسا کہ شرح الطحاویة میں ہے والحق ان التوراة والإنجیل والزبور والقرآن من کلام اللہ حقیقة وفیہ ایضا فان عبر بالعربیة فہو قرآن وان عبر بالعبرانیة فہو توراة فاختلف العبارات لا الکلام ، شرح الطحاویة ۔



آیت قرآنی یحرفون کلام اللہ کی تفسیر میں مفتی محمد شفیع صاحب علیہ الرحمة لکھتے ہیں ”کلام اللہ“ سے مراد یا تو توریت ہے اور سماع سے مراد بواسطہ انبیاء علیہم السلام کے ہے۔ معارف القرآن: ۱/۲۴۸۔



اس سے معلوم ہوا کہ توریت وغیرہ بھی کلام اللہ کا مصداق ہیں۔



اور ہمارے بعض اکابر رحمہم اللہ سے کلام اللہ آسمانی کتابوں میں صرف قرآن پاک کا ہونا منقول ہے دوسری کتابوں کو کلام اللہ نہیں کہا۔ تفصیل کے لئے دیکھئے، تحفت القاری: ۹/۴۵۔



واضح رہے کہ یہ مسئلہ ضروریات دین میں سے نہیں ہے لہٰذا اس کا انکار کرنے والا دین سے خارج نہ ہوگا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات