• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 162619

    عنوان: تجدید ایمان و تجدید نکاح کیا ہے ؟

    سوال: سوال: حضرت مجھے یہ جاننا ہے کہ ۱) تجدید ایمان و تجدید نکاح کیا ہوتا ہے ؟ ۲) اور یہ میاں بیوی پر کب لازم ہوتا ہے یعنی ایسے کون سے عمل ہیں جن کے کرنے پر تجدید نکاح ہوتا ہے ؟ ۳) تیسرے یہ بھی جاننا چاہتا ہوں کہ کیا کسی مسلمان سے اب تک بہت بڑے بڑے گناہ سرزد ہوئے ہوں جن پر تجدید ایمان و تجدید نکاح لازم تھے ، لیکن اس کو آج تک تجدید ایمان و تجدید نکاح کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا نہ ہی کہیں سن رکھا تھا؟ اب جبکہ اس انسان کو ان دو چیزوں کے بارے میں معلوم ہوا ہو تو کیا پرانے تمام غلطیوں گناہوں کے لئے اس مسلمان کو یہ دونوں عمل تجدید ایمان و نکاح دہرانے ہوں گے ؟ یا نہیں؟ برائے مہربانی جلد از جلد رہنمائی فرمائیں. نوازش ہوگی۔

    جواب نمبر: 162619

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:1331-1123/sd=11/1439

     (۱) تجدید ایمان کا مطلب ہے : دوبارہ نئے سرے سے ایمان لانا ، یعنی کلمہ شہادت پڑھنا اور کفر و شرک کی چیزوں سے توبہ کرنا اور تجدید نکاح کا مطلب ہے اپنی اہلیہ سے شرعی طریقے کے مطابق دوبارہ نکاح کرنا ۔ (۲) تجدید ایمان و نکاح اُس وقت واجب ہوتا ہے جب زبان سے کوئی کفر یہ یا شرکیہ کلمہ بول دیا جائے ، مثلا: اللہ تعالی کی ذات و صفات یا انبیاء علیہم الصلاة والسلام کے بارے میں کوئی ایسا کلمہ زبان سے کہدیا جائے جس میں یقینی طور ر توہین ہوتی ہو یا کوئی شرکیہ یا کفریہ عمل کیا جائے ، مثلا: غیر اللہ کو معبود سمجھ کر سجدہ کرلیا جائے وغیرہ۔ (۳) گناہ کبیرہ سے ایمان و نکاح کی تجدید لازم نہیں ہوتی، سچے دل سے توبہ استغفار کرنے سے اللہ تعالی گناہوں کو معاف فرمادیتے ہیں، ہاں اگر کوئی کفریہ یا شرکیہ کلمہ زبان سے نکالا ہو یا عمل کیا ہو، تو اس کی وضاحت کرکے دوبارہ سوال کرلیا جائے ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند