عقائد و ایمانیات - اسلامی عقائد

Pakistan

سوال # 161363

ہمارے ملک پاکستان کے اکثر علماء کہتے ہیں کہ جو صحابہ کہ گالیاں دیتا ہے وہ کافر نہیں ہوتا بلکہ وہ فاسق کہلاتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ انکا یہ نقطہ نظر کہ صحابہ کو گالیاں دینے والا کافر نہیں بلکہ فاسق ہے ، کیا صحیح ہے ؟ اگر واقعی ایسا شخص فاسق ہے تو فاسق کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ کیا فاسق شخص کچھ عرصہ جہنم میں رہنے کے بعد جنت میں جائے گا جیسا کہ ایک مسلمان کبیرہ گناہ کرتے کرتے بغیر توبہ کے مر جائے تو وہ ایک مخصوص مدت تک جہنم میں جلے گا۔ جواب سے مستفید فرمائیں۔

Published on: Jun 11, 2018

جواب # 161363

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1072-987/sd=9/1439



 کسی بھی صحابی کو برا بھلا کہنا اور ان کو تنقید وملامت کا نشانہ بنانا یقینا موجب فسق وضلالت ہے ؛ لیکن اس سے آدمی کافر ومرتد نہیں ہوتا بشرطیکہ اس سب وشتم وغیرہ کو بعض اہل تشیع کی طرح حلال یا کارثواب نہ سمجھتا ہو۔



 کذا فی الدر والرد (کتاب الجہاد باب المرتد: ۳۷۶/۶-۳۷۸، ط: زکریا دیوبند) وقال فی تنبیہ الولاة والحکام (مجموعہ رسائل ابن عابدین: ۳۶۷/۱) عن المنلا علی القاری: ... وأما من سب أحدا من الصحابة فہو فاسق مبتدع بالإجماع إلا إذا اعتقد أنہ مباح أو یترتب علیہ ثواب کما علیہ بعض الشیعة أو اعتقد کفر الصحابة فإنہ کافر بالإجماع... إھ



 اور فاسق کا حکم یہ ہے کہ اگر وہ توبہ کے بغیر انتقال کرگیا، تو اہل السنة والجماعة کے نزدیک اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہوگا، اگر اللہ چاہے تو اس کو معاف فرما دے گا اور اس کے ایمان کے سبب اس کی مغفرت کرے گا اور اگر چاہے گا تو اس کے جرم کی وجہ سے اسے سزا دے گا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات