عقائد و ایمانیات - اسلامی عقائد

India

سوال # 160933

کیا فرماتے ہیں علماء ربانیین مسئلہء ذیل کے بارے میں کہ زید اور ہندہ کے درمیان بیٹے کی شادی کو لے کر بحث ہو رہی تھی، زید چاہتا تھا کہ شادی شریعت کے مطابق ہو ہندہ اگرچہ اس کے خلاف نہ تھی لیکن وہ یہ چاہتی تھی کہ خاندان میں عزت نہ جائے یعنی یہ نہ کہا جائے کہ بارات میں ہمیں نہیں پوچھا زید کا کہنا تھا کہ اسلام میں شادی کا کوئی خرچہ لڑکی والوں پر نہیں رکھا گیا ہے یہ سب غیروں کی رسمیں ہیں جو مسلمانوں میں آ گئی ہیں یعنی بارات وغیرہ کی شریعت پر عمل کرنے میں ہمارا ہی فائدہ ہے اس پر ہندہ نے غصہ میں آکر کہا کہ ہمیں نہیں جانا جنت میں ہمیں اپنی عزت پیاری ہے جناب والا ہندہ کی اس بات کا کیا حکم ہے اور یہ کہنا کہ اللہ پاک کو ہمارے ہی ساتھ نا انصافی کرنی تھی کا حکم بھی واضح فرما دیں عین نوازش ہوگی کیا اس سے ہندہ کے نکاح پر کوئی فرق پڑے گا۔

Published on: May 6, 2018

جواب # 160933

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1009-849/sd=8/1439



ہمیں نہیں جانا جنت میں ہمیں اپنی عزت پیاری ہے ، اللہ تعالی کو ہمارے ہی ساتھ نا انصافی کرنی تھی ،یہ جملے بہت سخت ہیں،ان کی وجہ سے تجدید ایمان و نکاح ضروری ہے اور توبہ و استغفار بھی ضروری ہے ۔



یستفاد :ثم الأصل أن جحود أمر اللہ تعالی اأمر رسولہ کفر، چنانچہ گوید۔۔۔۔۔اگرچہ خدای مرا بھشت فرستند نروم ۔ ( التاتارخانیة ، کتاب أحکام المرتدین )من نسب اللہ تعالی الی الجور، فقد کفر ۔ (الفتاوی الہندیة :۲۵۹/۲، کتاب السیر، موجبات الکفر أنواع، ومنھا ما یتعلق بذات اللہ تعالی و صفاتہ ) فتاوی محمودیہ : ۴۰۸/۲، ۴۵۹)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات