عقائد و ایمانیات - اسلامی عقائد

India

سوال # 160649

مفتی صاحب، آج کل جب بیماریاں کافی دنوں تک لگی رہتی ہے اور دعا و علاج سے بھی بظاہر کوئی خاص فرق نہیں ہوتا تو اکثر لوگ مشورہ دیتے ہیں کسی عامل کو دکھا دو میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا، میں اسی کے تعلق سے چند سوالات نمبر وار آنجناب کی خدمت میں عرض کرتا ہوں برائے مہربانی مجھے جائز طریقے سے روشناش فرمائیں اور صحیح مشورہ بھی دے دیں:
1- کیا کوئی بھی کسی عمل کے ذریعہ کسی انسان کو مصیبت، بلا اور بیماری میں مبتلا کر سکتا ہے ؟
2- اسی طرح کیا جنات از خود یا کسی کے کہنے پر کسی کی اولاد کو رحم مادر سے گرا سکتے ہیں یا اولاد ہونے سے روک سکتے ہیں؟
3- اگر یہ سب ہو تو کیا عامل صاحب سے گھر کی بندش کرانا اور ایک سے ایک طریقے کے ذریعے علاج کرانا جائز ہے مثلا (الف ) بکرے کی اگلی ران پر عمل کر کے گاڑنا (ب) چالیس دنوں تک گھر میں مرچ، لوبان، گوگل وغیرہ جن پر عمل کیا گیا ہو اس کی دوھونی دینا اور دم کئے ہوئے تیل کا دیا جلانا (ج) گھر کے سبھی دروازوں پر سوراخ کرکے تعویذ گڑوانا یا آیات لکھی ہوئی کیل گاڑنا، وغیرہ۔
4- کیا کسی پڑھے لکھے ہوئے عاقل بالغ مرض میں مبتلا شخص کے لئے تعویذ کا ہمیشہ پہننا یا صرف حالت مرض میں پہننا کیسا ہے ؟
برائے مہربانی مفتی صاحب ان چیزوں کے بارے میں میری رہنمائی فرمائیں اور میرے لئے دعا بھی فرمائیں الحمد للّٰہ میں دین کا حتی الوسع پاپند ہوں پر کافی عرصے سے بیمار ہوں دوا و دعا سے بظاہر کوئی فائدہ نہ ہوا تو استاد صاحب کے کہنے پر کئی عاملوں کو دکھایا کوئی پیسوں کی فرمائش کرتے ہیں تو کوئی مہنگے مہنگے سامان لکھتے ہیں جو انہیں کے یہاں ملتے ہیں۔ بہر حال مجھے بتائیں کیا میں تعویذ پہن لو اور گھر کی بندش تین نمبر میں مذکورہ طریقوں سے کروا لوں یا ایسے ہی اپنے اللّٰہ سے مانگتا رہوں۔یا آپ ہی برائے مہربانی کوئی عمل یا وظیفہ بتا دیں۔ جزاکم اللّٰہ خیرا احسن الجزاء

Published on: May 23, 2018

جواب # 160649

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:958-178T/sn=9/1439



(۱) جو کچھ ہوتا ہے وہ سب اللہ کی طرف سے ہی ہوتا ہے؛ البتہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے بعض اقوال وافعال میں سبب کے درجے میں ایسی تاثیر رکھی ہے کہ ان اقوال واعمال کو حسب شرائط بروئے کار لانے سے ان کے آثارِ خیر وبد ظاہر ہوتے ہیں، نتیجةً کوئی بیماری تو کوئی صحت محسوس کرتا ہے، دیکھیں: فتاوی دارالعلوم دیوبند: ۱۸/ ۶۱۱، ۶۱۲، سوال: ۹۲۸، ۹۲۹)



(۲) جنات میں بھی اچھے برے ہرطرح کے ہوتے ہیں، جنات از خود یا ان کو تابع کرنے والے عاملوں کے کہنے پر کوئی تدبیر اختیار کرکے کسی عورت کا حمل گراسکتے ہیں یا بچے کی پیدائش میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں؛ لیکن یہاں بھی فاعلِ حقیقی اللہ تعالی کی ذات ہی ہے؛ ہاں اللہ تعالیٰ نے تکوینی نظام کے تحت جن وشیطاطین کو بھی اس قسم کی کچھ قدرت دیرکھی ہے۔ (دیکھیں: حوالہٴ سابق)



(۳) اگر ان اعمال کو موٴثر حقیقی نہ سمجھا جائے، نیز ان چیزوں پر جو عمل کیا گیا ہو وہ مباح اور جائز ہو تو بہ طور علاج یہ تینوں طریقے اختیار کیے جاسکتے ہیں۔ عن عوف بن مالک الأشجعی، قال: کنا نرقی فی الجاہلیة فقلنا یا رسول اللہ کیف تری فی ذلک فقال: اعرضوا علی رقاکم، لا بأس بالرقی ما لم یکن فیہ شرک (مسلم، باب: لا باس بالرقی ما لم یکن فیہ شرک)



(۴) مباح عمل پر مشتمل تعویذ بہ طور علاج بہ وقت مرض یا اندیشہٴ مرض پہننے کی گنجائش ہے۔ قد أخرج أبوداوٴد عن عمرو بن شعیب، عن أبیہ، عن جدہ، أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان یعلمہم من الفزع کلمات: أعوذ بکلمات اللہ التامة، من غضبہ وشر عبادہ، ومن ہمزات الشیاطین وأن یحضرون وکان عبد اللہ بن عمر یعلمہن من عقل من بنیہ، ومن لم یعقل کتبہ فأعلقہ علیہ․ (رقم: ۳۸۹۳، باب کیف الرقی)



(۵) اللہ تعالیٰ سے دعا کے ساتھ ساتھ بہ طور تدبیر قابل اعتماد لوگوں سے حسب استطاعت علاج بھی کرائیں، نیز روزانہ گھر پے سورہٴ بقرہ کی تلاوت کا معمول بنائیں اور صبح وشام اسی طرح سوتے وقت آیت الکرسی اور معوذتین پڑھ کر اپنے اوپر دم کرلیا کریں، ان شاء اللہ آرام ملے گا، ہم بھی دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل وکرم سے آپ کو شفائے عاجلہ کاملہ عطا فرمائے۔ آمین



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات