عقائد و ایمانیات - اسلامی عقائد

inda

سوال # 158533

مدرسہ میں جوبکرے بطورصدقہ کے آتے ہیں ان کی تملیک کس طرح کر نی چاہئے ؟آیا طالب ِ علم کے حوالے کرکے تملیک کر انی چاہئے ؟ یا تمیلک کے فارم پر جو دستخط غیر مستطیع سے کرا ئی جا تی ہے وہی کافی ہے ؟
برائے کرم جواب دے کر عندا للہ ماجور ہوں۔

Published on: Feb 11, 2018

جواب # 158533

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 587-455/SN=5/1439



اگر لوگ صدقہ وسنت کے بکرے (جان کے بدلے جان کے عقیدہ کے بغیر ) طلبہ کو کھلانے کے لیے دیتے ہیں تو پکاکر مستحق طلبہ کو کھلادیا جائے، بس یہی تملیک ہے؛ البتہ یہ بات واضح رہے کہ لوگوں میں ”جان کے بدلے جان“ کے عقیدے کے تحت بکرے صدقہ کرنے کا جو رواج ہے یہ شرعاً بدعت اور ناجائز ہے، اگر مدرسے میں لوگ اس طرح کے بکرے لے کر آئیں تو انھیں قبول نہ کرنا چاہیے؛ بلکہ حسن اسلوب سے انھیں مسئلہ بتلادینا چاہیے کہ یہ طریقہ غلط ہے، مریض سے دفع بلا کے لیے کوئی بھی صدقہ دیا جاسکتا ہے، مثلاً نقد یا غلہ کی شکل میں یا کسی اور چیز کی شکل میں، بکرا وغیرہ کو ضروری خیال کرنا اور یہ عقیدہ رکھنا کہ اس کی جان کے بدلے مریض کی جان بچ جائے گی شرعاً درست نہیں ہے، بدعت ہے۔ (دیکھیں: امداد الفتاوی: ۳/ ۵۷۰، ۵/۳۰۶،ط: زکریا)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات