عقائد و ایمانیات - اسلامی عقائد

syria

سوال # 158219

حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) پر جب تہمت لگائی گئی تو حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کو حقیقت کا علم تھا؟ کیونکہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ہاں، علم تھا۔ وہ اس لیے کیونکہ:
(۱) حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اپنے پیچھے ایسے نظر آتا تھا جیسے بالکل سامنے ۔
(۲) حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کی نظر آسمان چیر کر جنت دیکھ لیتی تھی۔
یہ (۱،۲) مولانا طارق جمیل صاحب نے فرمایا ہے۔
کیا ایسا کہنا غلط ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کو علم نہیں تھا؟ بعض کہتے ہیں کہ ایسا کہنا گناہ ہے۔

Published on: Jan 27, 2018

جواب # 158219

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:557-29T/H=5/1439



حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر لگائی تہمت کی حقیقت کا علم پہلے سے نہیں تھا، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے سے اس کی حقیقت کا علم ہوتا تو خود آپ بھی اتنے پریشان نہ ہوتے اور نہ دوسروں کو پریشان ہونے دیتے۔ آپ نے جو دو باتیں ذکر کی ہیں ان میں سے پہلی مسلم شریف اور مسند احمد کی روایت میں ہے جس کے ا لفاظ یہ ہیں: عن أبي ہریرة عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: إني أنظر -أو: إنی لأنظر- ما ورائي، کما أنظر إلی بین یديّ، فسووا صفوفکم، وأحسنوا رکوعکم وسجودکم (مسند أحمد ابن حنبل: ۱۲/ ۱۲۷رقم الحدیث ۱۷۹۹ط: موٴسسة الرسالة بیروت، والفظ لہ، مسلم: ۱/ ۱۸۰باب الأمر بتحسین الصلاة وإتمامہا والخشوع فیہا ط: اتحاد دیوبند) یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اپنے پیچھے اسی طرح دیکھتا ہوں جیسے سامنے دیکھتا ہوں؛ لہٰذا تم صفیں درست کیا کرو اور رکوع وسجدے اچھی طرح ادا کیا کرو؛ لیکن اس روایت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہرواقعہ کی حقیقت کا علم پہلے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہو، امام نووی علیہ الرحمة اس حدیث کے معنی لکھتے ہیں: قال العلماء معناہ أن اللہ تعالی خلق لہ صلی اللہ علیہ وسلم إدراکا فی قفاہ یبصر بہ من ورائہ وقد انخرقت العادة لہ صلی اللہ علیہ وسلم بأکثر من ہذا ولیس یمنع من ہذا عقل ولا شرع بل ورد الشرع بظاہرہ فوجب القول بہ قال القاضی قال أحمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالی وجمہور العلماء ہذہ الرؤیة بالعین حقیقة․ (مسلم: ۱/ ۱۸۰ط، اتحاد دیوبند باب الأمر بتحسین الصلاة) نیز خود واقعہ افک میں بھی اس کے خلاف ہی ثابت ہوا یعنی حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی تہمت ہونے کا علم پہلے سے نہ تھا جیسا کہ معارف القرآن ج۶ص۳۷۳سے معلوم ہوتا ہے۔ ثم قال أما بعد یا عائشة فإنہ قد بلغني عنک کذا وکذا فإن کنت بریئة فسیبرئک اللہ وإن کنت ألممت بذنب فاستغفر اللہ وتوبي إلیہ فإن العبد إذا اعترف بذنبہ ثم تاب إلی اللہ تاب اللہ علیہ (صحیح البخاری: ۲/ ۶۹۸، کتاب التفسیر، سورة نور، باب قولہ عز وجل: إن الذین جاء وا بالإفک الخ ط: اتحاد دیوبند) دوسری بات جو آپ نے ذکر کی وہ ہمیں نہیں مل سکی۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات