عقائد و ایمانیات - اسلامی عقائد

India

سوال # 156717

اگر فجر کا وقت نکل جائے تو سنت ادا کرسکتے ہیں؟ کیونکہ اس کی بہت اہمیت بیان کی گئی ہے، اور کتنے بجے تک سنت ادا کرسکتے ہیں؟ یا صرف فرض ہی ادا کیا جائے گا؟

Published on: Nov 27, 2017

جواب # 156717

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:212-152/Sd=3/1439



اگر اتفاقاً فجر کی نماز فوت ہوجائے ، تو طلوع آفتاب کے بعد زوال سے پہلے پہلے اس کی قضا کر لینی چاہیے اور زوال سے پہلے قضا کی صورت میں سنتِ فجر کی بھی قضا پڑھی جائے گی ؛ لیکن زوال کے بعد صرف فرض کی قضاء کی جائے گی، سنت کی قضا بعد میں مشروع نہیں ہے ، اسی طرح اگر صرف سنت چھوٹ جائے ، تو اُس کی قضا نہیں ہے ، البتہ امام محمدکے نزدیک زوال سے پہلے پڑھ لینا بہتر ہے ۔ ولا یقضیہا إلا بطریق التبعیة لقضاء فرضہا قبل الزوال لابعدہ فی الأصح أی لایقضی سنة الفجر إلا إذا فاتت مع الفجر فیقضیہا تبعاً لقضائہا لو قبل الزوال الخ (درمختار مع الشامی /۲ ۵۱۲، زکریا)وقال محمد رحمہ اللہ: أحبّ إلیّ أن أقضیھا إذا فاتت وحدھا بعد طلوع الشمس قبل الزوال. (کبیری: ۳۸۰،ط لکھنوٴ)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات