عقائد و ایمانیات - اسلامی عقائد

Pakistan

سوال # 154769

محترم مفتیان کرام میرے دوست کے گھر والے اس کی شادی کرنا چاھتے تھے ۔ جبکہ وہ شادی نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس نے گھر والوں کو شادی سے باز رکھنے کے لئے جھوٹ کہا کہ اس نے قسم کھائی ہے کہ جس سے بھی شادی کرے اس کو ہر دفعہ طلاق۔ اس نے بس یہی کہا "دی"، "یا نہیں دی" یہ لفظ نہیں کہا۔اس نے دل سے ایسی کوئی نیت نہیں کی۔نہ ہی قسم کھائی۔ بس گھر والوں کو شادی سے روکنے کے لئے ایسے کہا۔ کیا اب وہ شادی کر سکتا ہوں یا نہیں؟

Published on: Oct 22, 2017

جواب # 154769

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1518-1507/H=2/1439



دوست نے جب اقرار کرلیا تو خواہ جھوٹا ہی اقرار کیا ہو تاہم قسم کے الفاظ کے مطابق ہی حکم ہوگا اور وہ یہ ہے کہ جب بھی وہ دوست کسی سے نکاح کرے گا تو نکاح ہوتے ہی طلاق واقع ہوجائے گی البتہ اکر گوئی فضولی نکاح کردے اور پھر اس شخص کو اطلاع دیدے کہ میں نے فلانہ بنت فلاں سے تمھارا نکاح کردیا ہے یا فلانہ بنت فلاں سے نکاح کو تمھاری طرف سے قبول کرلیا ہے یہ سن کر وہ دوست خاموش رہے اور مہر کی رقم نکال کر فضولی کے حوالہ کردے وہ فضولی مہر کی رقم لے جاکر بیوی کو دیدے تو نکاح بھی ہوجائے گا اور طلاق بھی واقع نہ ہوگی، فضولی شخص سے یہ دوست پہلے بھی نہ کہے کہ فلانہ بنت فلاں سے میرا نکاح کردو بس وہ شخص جانتا ہو کہ اس نے ایسی اسی قسم کھا رکھی ہے اور پھر وہ از خود نکاح کردے یا نکاح کو شرعی گواہوں کی موجودگی میں قبول کرلے إذا قال کل امرأة أتزوجہا فہي طالق فزوجہ فضولي وأجاز بالفعل بأن ساق المہر ونحوہ لا تطلق بخلاف ما إذا وکل بہ اھ (الفصل الثاني في تعلیق الطلاق بکلمة کل وکلما قبیل الفصل الثالث من کتاب الطلاق في الفتاوی الہندةی: ۱/۴۸۸، ط: مکتبہ الاتحاد) مقامی کسی مفتی صاحب سے اچھی طرح سمجھ کر عملی قدم اٹھائیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات