عقائد و ایمانیات - اسلامی عقائد

india

سوال # 153431

صورت مسئلہ یہ ہے کہ ایک جگہ گیہوں کی راس رکھی ہوئی ہے اور ایک طرف گائے اور دوسری طرف سور گیہوں کو کھارہے تھے تو اس درمیان دونوں لڑنے لگے اور گیہوں کی راس کو بکھیر دیا، اب اس کے استعمال کی کیا صورت ہے ؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں مسئلہ کی وضاحت فرمائیے ۔ عین نوازش ہوگی۔

Published on: Aug 13, 2017

جواب # 153431

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 1106-915/D=11/1438



صورت مذکورہ میں گیہوں کے استعمال کے شرعاً دو طریقے ہیں:



(۱) یہ اندازہ لگایا جائے کہ خنزیر کی وجہ سے کتنا گیہوں ناپاک ہوا ہوگا، اندازے کے مطابق گیہوں کی ایک مقدار کو علیحدہ کرکے جانوروں کو کھلادیا جائے، یا اس کو دھوکر استعمال کرلیا جائے، باقی حصہ شرعاً پاک سمجھا جائے گا۔



(۲) گیہوں کی اس رأس کو چند حصوں میں تقسیم کردیا جائے تو ہرحصہ کو شرعاً پاک سمجھا جائے گا، اور اس کو استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔



 (۱) ولو بالت الحمر علی الحنطة حال الدوس فذہب بعض الحنطة فالباقي طاہر وکذا الذاہب أیضًا․ غنیة المستملی، ص: ۲۰۵



(۲) ونظیر قولہم: القسمة في المثلي من المطہرات یعني أنہ لو تنجس بعض البرّ ثم قسّم طہر، بوقوع الشک في کل جزء، ہل ہو المتنجس أو لا․



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات