عقائد و ایمانیات - اسلامی عقائد

India

سوال # 148331

کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام مندرجہء ذیل میں
کہ ھمارے شہر چکمگلور میں کئی مساجد میں آثارِ مبارک کے نام پر موئے مبارک کی نمائش کیجاتی ہے ، اور نصف صدی قبل سے یہ معمول چلا آرہا ہے مگر جب سے یہ معمول شروع ہوا، ابتداء کرنے والوں کے پاس اسکا کوئی ثبوت نہیں ہے ، حالانکہ دعوٰی یہ ہے کہ یہ سید المر سلین حضرت محمد ﷺ کے موئے مبارک ہیں ، اس کیلئے بعض احباب نے ملک کے موقر اداروں سے فتوٰی طلب کیا تو دار العلوم دیوبند و قاسمیہ شاھی مرادآباد، وغیرہ سے فتوے جو موصول ہوئے وہ اس استفتا سے ملحق ہیں کہ اسکی سند نہ ہونیکی صورت میں موئے مبارک کا انتساب آقا مدنی ﷺ کیطرف نا جائز ہے اور یہ نمائش بھی نا جائز ہے مگر بعض احباب نے سبیل الرشاد بنگلور سے فتوی طلب کیا تو جو جواب موصول ہوا وہ بھی اس استفتاء سے ملحق ہے کہ ان کا جواب یہ تھا، جب کہ موئے مبارک سے تبرک حاصل کرنے کا معمول چلا آرہا ہے تو یہ معمول بجائے خود ایک سند ہے جب تک اس کے خلاف پر کوئی یقینی دلیل نہ پائی جائے موئے مبارک کو مشکوک سمجھنا یا لوگوں کو زیارت سے روکنا درست نہ ہوگا۔
اور دلیل کے طور پر عبد اللہ بن مسعود کا اثر پیش کیا گیا کہ مارای المسلمون حسنا فھو عند اللہ حسن و ماراؤ سیئا فھو عند اللہ سئی
دریافت طلب امر یہ ھیکہ ابن مسعود کے اثر کا مصداق کون ہیں عامتہ الناس یا خواص، دوسری چیز ابن مسعود کے اثر میں حسن غیر حسن کی بات ہے ، جس کا ظنیات میں بھی امکانِ قوی ہے ، کیا کسی جماعت کا کسی شئی کو حسن سمجھ لینے سے غیر ثا بت شی ثابت ہوجائی ہے ، کیا ابن مسعود کے اثر کا محمل یہی ہے کہ ھمارے شہر چکمگلور میں جو عمل نصف صدی سے غیر مستند طور پر کیا جارہاہے ، مگر عوام الناس نے اسکو بھلا سمجھکر کیا ہے ۔ تو کیا عوام الناس کے حسن سمجھنے کی بنیاد پر یہ عمل مستند و ثابت شدہ ہوگیا، براہِ کرم قرآن و حدیث کی روشنی یہ عقدہ حل فرمائیں کیونکہ آپ نے جو فتوٰی دیاہے ، وہ قرآن وحدیث و دیگر اصول فقہیہ سے میل کھاتا ہوا نظر نہی آتاہے ۔
بینو ھا با لدلیل تو جرو ا عند الجلیل

Published on: Jan 9, 2017

جواب # 148331

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 56-265/Sn=4/1438



 



آپ نے استفتاء کے ساتھ دارالعلوم دیوبند نیز سبیل الرشاد بنگلور کے فتاوی بھی استفتاء کے ساتھ ملحق کرنے کی بات لکھی ہے؛ بلکن ہمیں وہ فتاوی نہیں ملے، صرف جامعہ قاسمیہ مراد آباد کا فتوی ہمیں ملا، اگر تمام فتاوی ہمارے سامنے ہوتے تو تفصیل سے غور کیا جاسکتا، اس وقت اجمالاً صرف اتنا عرض ہے کہ ”موئے مبارک“ کے حوالے سے حکم شرعی وہی ہے جو جامعہ قاسمیہ شاہی مرادآباد کے فتوے (مجریہ ۵/۵/ ۱۴۳۷ھ) میں ”کفایت المفتی اور اصلاح الرسوم وغیرہ کے حوالے سے لکھا گیا ہے، مزید یہ عرض ہے کہ جو چیز اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہو؛ لیکن اس کی کوئی قابل اعتماد سند نہ ہو تو محض پچاس سو سال سے عوام کے درمیان شہرت ہونے سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس کی نسبت کا یقین کرنا جائز نہ ہوگا اور نہ ہی تبرک نبوی کے طور پر اس کے ساتھ معاملہ کرنا درست ہوگا؛ کیوں کہ تواتر وتوارث کے لیے ضروری ہے کہ اس کا سلسلہ خیرالقرون کے زمانہ تک پہنچے، اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول ”مارآہ المسلمون حسنا فہو عند اللہ حسن“ سے عوام کے اس عمل واعتقاد کے جواز؛ بلکہ استحسان پر استدلال بھی صحیح نہیں ہے؛ کیوں کہ حضرت ملا علی قاری رحمہ اللہ شارح مشکات نے صراحت کی ہے کہ ”المسلمون“ سے مراد ”علماء اور اتقیاء“ ہے یعنی عوام کے استحسان کا کوئی اعتبار نہیں ہے، نیز جس چیز کا تعلق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس سے ہو جس پر چودہ سو سال سے زائدہ عرصہ گزرچکا ہو، اس کے ثبوت کے لیے پچاس سو سال سے کچھ لوگوں کے درمیان شہرت اور ان کا استحسان کیسے ”مجوّّز“ بن سکتا ہے۔ مرقات میں ہے: ․․․․ قال ابن مسعود - رضی اللہ عنہ: ما رآہ المسلمون حسنا فہو عند اللہ حسن، والمراد بالمسلمین زبدتہم وعمدتہم، وہم العلماء بالکتاب والسنة، الأتقیاء عن الحرام والشبہة (مرقاة المفاتیح باب التنظیف والتبکیر، کتاب الجمعة، ۳/۱۰۳۴، ط: دار الفکر) نیز امداد الفتاوی میں اس طرح کے ”موئے مبارک“ کے سلسلے میں ایک سوال کے جواب میں حضرت اقدس تھانوی رحمة اللہ علیہ نے تحریر فرمایا: ”اگر اس کے موئے مبارک ہونے کی کچھ سند نہیں ہے تو اس کی تعظیم وتوقیر لاحاصل ہے اور اگر کوئی سند ہے تو اس کی تعظیم کرنے میں اجر وثواب ہے بہ شرطے کہ حد شرع سے نہ بڑھ جائے الخ۔ (امداد الفتاوی: ۴/ ۵۶، ط: زکریا)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات