عقائد و ایمانیات - اسلامی عقائد

India

سوال # 146973

میرا سوال یہ ہے کہ حدیث پاک میں عالم کی بہت فضیلت آئی ہے تو عالم کس کو کہتے ہیں کیا عالم ہونے کے لیے مدرسہ میں داخل ہونا ضروری ہے ؟
۲۔ اگر کوئی شخص دینی کتاب پڑھ کر یا جماعت میں جاکر علم سیکھ لے توکیا اس شخص کو عالم کہا جاسکتاہے ؟
۳ ۔یا جاہل ہی رہے گا ؟
۴ ۔اگرجاہل رہے گا تو اس شخص کو عالم کی فضیلت پانے کے لیے کیا کرنا چاہئے ؟

Published on: Dec 28, 2016

جواب # 146973

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 305-283/B=3/1438



 



دور حاضر کے عرف میں عالم وہ شخص ہے جو قرآن و حدیث کو باقاعدہ پڑھے ہوئے ہو اور قرآن و حدیث کو اس کے احکام کو براہِ راست سمجھتا ہو، جماعت میں نکلنے والا اگر کچھ باتیں دین کی سیکھ لے تو اسے عالم نہیں کہا جائے گا، اسی طرح جس نے محض کتابوں کا مطالعہ کرکے کچھ باتیں سیکھ لیں وہ بھی عالم نہیں کہا جائے گا، جب تک کسی مستند عالم کے پاس یا کسی مستند مدرسہ میں رہ کر تمام علوم آلیہ کو سیکھ کر علوم قرآن اور اس کی تفسیر کو نہ پڑھے اور اسی طرح علم حدیث کو نہ سیکھے تو وہ اہل علم کے یہاں اصلاحی عالم شمار نہیں کیا جائے گا، عالم کے لیے باقاعدہ تمام علوم کو ۷- ۸سال تک پڑھنا ضروری ہے اس کے بغیر وہ عالم نہیں کہلائے گا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات