عقائد و ایمانیات - اسلامی عقائد

Bangladesh

سوال # 146617

جی حضرت مجہے یہ پوچھنا ہے کہ جب قرآن کریم اللہ رب العزت کی صفت ہے تو ترمذی کی حدیث ہے جس میں خود اللہ کا قرآن کہتاہے اے میرے رب اس شخص سے راضی ہو جائے حدیث: عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال یجیءُ صاحب القرآن یوم القیامہ فیَقُلُ یا ربِّ حلّہ فیلبس تاج الکرامہ،ثم یقول یا رب زدہُ فیلبس حُلّہ الکرامہِ،ثم یقول: یا ربِّ ارضَ عنہ فیرضی عنہ فیقولُ لہُ اقواوارق ویزادُ بکلّ ایہ حسنہ۔ اس حدیث کی وضاحت کر دیجئے کہ قرآن نے یہاں رب کیوں کہا ہے ۔

Published on: Dec 19, 2016

جواب # 146617

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 236-253/B=3/1438



 



اللہ رب العزت کی اصل صفت تو کلام نفسی ہے قرآن پڑھنے والوں اور اس پر عمل کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے اعزاز و اکرام میں یہ تعبیر اختیار کی ہے کہ قرآن یوں کہے گا یعنی جو کچھ حروف ہم نے پڑھے ہیں وہ کہیں گے جیسے تراویح قرآن پڑھنے والوں اور روزہ رکھنے والوں کے بارے میں آیا ہے کہ دونوں اللہ سے سفارش کریں گے فیشفعان پس دونوں کی سفارش قبول کرلی جائے گی۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات