عقائد و ایمانیات - اسلامی عقائد

pakistan

سوال # 146579

لوگ کہتے ہیں اللہ سے ہونے کا یقین مخلوق سے اللہ کے ارادے کے بغیر کچھ بھی نہ ہونے کا یقین دل میں لاوَ تو سوال میرا یہ ہے اس جملے کے دوسرے جز سے تو یہ بات ثابت ہو رہی ہے کہ نعوذ باللہ اللہ ہی ہم سے گناہ کروارہا ہے ۔ اگر یہ کہا جائے کہ ہمیں اختیار دیا ہے تو پھر اللہ کا ارادہ تو نہیں ہوا نا کیونکہ اللہ نیک کام پر اجر اور برے کام پر سزا دیتا ہے ہاں اپنے فضل سے معاف بھی کرسکتا ہے تو کیا یہ جملہ ٹھیک ہے ؟اللہ سے ہونے کا یقین مخلوق سے اللہ کے ارادے کے بغیر کچھ بھی نہ ہونے کا یقین جواب مرحمت فرمائیں اللہ جزائے خیرعطا فرمائے ؟

Published on: Dec 21, 2016

جواب # 146579

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 161-164/Sd=3/1438



 



” اللہ سے ہونے کا یقین اور مخلوق سے اللہ کے ارادے کے بغیر کچھ بھی نہ ہونے کا یقین“ یہ صحیح جملہ ہے؛ لیکن اِس کا یہ مطلب سمجھنا کہ نعوذ باللہ اللہ تعالی بندوں سے گناہ کروا رہا ہے؛ قطعا غلط ہے ، اس سلسلے میں اجمالی طور پر بس اتنا سمجھ لینا چاہیے کہ اس دنیا میں سارے افعال اللہ تعالی ہی کے ارادے سے واقع ہوتے ہیں ،؛ لیکن اُس نے بندوں کو مجبور نہیں بنایا ہے؛ بلکہ اختیار دیا ہے ، بندے جو بھی خیر و شر کے کام کرتے ہیں، وہ اپنے اختیار و ارادے سے کرتے ہیں، اسی لیے خیر کے کام پر وہ اجر و ثواب کے مستحق ہونگے اور شر کے کام پر گناہ اور وعیدوں کے مستحق بنیں گے ، باقی اس سے زیادہ اس مسئلے میں غور و فکر نہیں کرنا چاہیے ، احادیث میں اس سے منع کیا گیا ہے۔ وھي، أي: أفعال العباد کلہا بارادتہ ومشیتہ و قضیتہ و تقدیرہ ۔۔۔فان قیل : فیکون الکافر مجبوراً في کفرہ، والفاسق في فسقہ ، فلا یصح تکلیفہما بالایمان والطاعة ۔ قلنا: انہ تعالی أراد منہما الکفر والفسق باختیارہما ، فلا جبر کما أنہ علم منہما الکفر والفسق بالاختیار، ولم یلزم تکلیف المحال ۔ ( شرح عقائد ، ص: ۷۸، ۷۹ط: اقراء بک ڈپو، دیوبند )



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات