عقائد و ایمانیات - اسلامی عقائد

South Korea

سوال # 118

قرآن میں بیان شدہ تصور کہ اللہ تعالی شرک کے علاوہ ہر گناہ معاف فرمادیں گے، کے سلسلے میں ائمہ اربعہ (حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی) کیا فرماتے ہیں؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر یہودی، عیسائی اور اسلام کے دیگر فرقے جیسے قادیانی وغیرہ نبی صلى الله عليه وسلم کو خاتم النبیین نہ مانتے ہوئے بھی شرک نہ کریں تو کیا وہ باجازت خداوندی قیامت کے روز بخش دیے جائیں گے؟ یا اپنے دیگر گناہوں کی سزا پانے کے بعد ان کو جنت میں داخل کردیا جائے گا؟
از راہ کرم، قرآن کریم اور احادیث مبارکہ کے حوالوں سے اس نکتہ کی وضاحت فرمائیں۔ جزاکم اللہ!

Published on: Feb 2, 2016

جواب # 118

بسم الله الرحمن الرحيم

(فتوى: 346/ب=340/ب)

خاتم النّبیین کاعقیدہ تو منصوص ہے، اگر کوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النّبیین نہ مانے تو وہ دائرہٴ اسلام سے خارج اور کافر ہے۔ جس طرح شرک ناقابل معافی جرم ہے اسی طرح کفر بھی ناقابل معافی جرم ہے۔ جس طرح مشرک صانع کارساز کی اہانت کرتا ہے اسی طرح کافر بھی صانع کی بتائی ہوئی بات کا انکار کرتا ہے، پس وہ خود صفتِ صدق کا انکارکرتا ہے اور بعض کافر ذاتِ باری تعالیٰ کاانکار کرتے ہیں، بعض کسی صفت کا انکار کرتے ہیں، بعض ایسے بھی ہیں جو اللہ کی ذات اور صفات دونوں کا ہی انکار کرتے ہیں۔ ان سب سے توحید کا انکار لازم آتا ہے۔ لہٰذا کفر و شرک دونوں ہی ناقابل معافی جرم ہیں۔ اس میں ائمہ اربعہ کا اختلاف نہیں ہے۔ یہ عقیدہ کا مسئلہ ہے اور اصولی مسئلہ ہے، اس میں سب ہی ائمہ اتفاق رکھتے ہیں۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات