معاملات - سود و انشورنس

India

سوال # 700

میں ایک سوال کرنا چاہتا ہوں۔ ایک بینک ویزا کارڈ دیتا ہے۔ اگر کوئی شخص ویزا کارڈ لیتا ہے تو وہ بینک سے 5000/-ریال لے سکتا ہے اور ایک سال کے بعد جب وہ بینک کو یہ رقم لوٹائے گا تو اس کو 5000/-ریال کے ساتھ 600/- ریال مزید دینا ہوگا۔ اگر وہ ویزاکارڈ کے ذریعہ کوئی چیز مارکیٹ سے خریدے تو اس صورت میں اضافی رقم دینے کی ضرورت نہیں۔مثلاً ویزاکارڈ کے ذریعہ ً کوئی1000/- ریال میں کچھ سامان خریدے تو اس کو 1000/- ریال ہی واپس کرنا ہے۔


براہ کرم، مجھے جواب عنایت فرمائیں۔


والسلام

Published on: Jun 7, 2007

جواب # 700

بسم الله الرحمن الرحيم

(فتوى: 548/ب=540/ب) 


 

جب لوٹا نے کی صورت میں 5000 کے ساتھ 600 ریال مزید دینا پڑتا ہے تو یہ سود کی شکل ہے سود کا لینا جس طرح حرام ہے اسی طرح سود کا دینا بھی حرام ہے اور یہ بلاشبہ حرام ہے اس لیے بینک سے ویزا کارڈ نہ لینا چاہیے۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات