معاملات - سود و انشورنس

India

سوال # 69793

میں سیٹی بینک میں کام کررہاہوں، یہ سودی نظام والا بینک ہے، اور اپنے گاہکوں کو جو امریکہ اور پوری دنیامیں کے ہیں فائنانس دیتاہے، میں بینک کے آٹی سیکشن ، چنئی، انڈیا میں نیٹ ورک انجینئرنگ کی حیثیت سے ٹیکنالوجی فراہم کرنے کا کام کرتاہوں، یعنی میرا کام بینک کی شاخوں ، اس کے ہیڈ آفسوں اور پوری دنیا میں قائم شاخوں کے درمیان رابطہ قائم رکھنے کے لیے نیٹ ورک کی درستگی و اصلاح کا کام کرتاہوں تاکہ وہ گاہکوں کے لے کام کرسکیں۔ سودی معاملات سے میرا کام براہ راست نہیں ہے۔ اکثر لوگ اور امام حضرات کہتے ہیں کہ یہ اسلام میں جائز نہیں ہے،آمدنی کا ذریعہ فائنانس کے سود اور کاروبار سے ہے۔میں یہ جاننا چاہوں گا کہ کیا اسلام کے مطابق یہ ملازمت کرنا جائز ہے؟براہ کررہنمائی فرمائیں۔میں نے یہ ملازمت آپ کے فتوی(Fatwa: 253/L=165/TL=1433) کے بعد شروع کی تھی۔

Published on: Dec 8, 2016

جواب # 69793

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 160-237/L=3/1438



 



آپ کی ملازمت جائز ہے، البتہ اگر اس کے علاوہ کوئی اور جائز ملازمت مل جائے تو بہتر یہ ہے کہ اس کو ترک کردیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات