معاملات - سود و انشورنس

India

سوال # 669

تاجر کسی سامان کے فکس ریٹ پر نقد ادائیگی یا قسطوں میں ادائیگی کی صورت میں جو ڈسکاؤنٹ دیتے ہیں، اس سلسلے میں قرآن کیا کہتا ہے اور اس بابت علماء کیا فرماتے ہیں؟کیا اس ڈسکاؤنٹ کو سود سمجھا جائے گا؟


والسلام

Published on: Jun 7, 2007

جواب # 669

بسم الله الرحمن الرحيم

(فتوى: 155/د=147/د)


 

معاملہ اس طرح طے کرنا کہ اگر نقد ادائیگی کرے گا تو اتنی رقم دینی ہوگی اور قسطوں میں ادائیگی کرے گا تو اتنی رقم دینی ہوگی یہ درست نہیں ہے نقد خرید کا دام اور قسطوں پر خرید کا دام الگ ہوسکتا ہے مگر شرعا اس کے جائز ہونے کے لیے ضروری ہے کہ معاملہ کرتے وقت یہ متعین اور معلوم ہوجائے کہ قسطوں پر خرید رہا ہے یا نقد خریداری کر رہا ہے ایک صورت متعین ہوکر اس کا دام مقرر ہوجائے تو صحیح ہے اگر فکس ریٹ پر سودا ہوا اور اسی وقت ہاتھ کے ہاتھ  دکاندار نے رقم لیتے وقت کیش ڈسکاؤنٹ کے طور پر کچھ کم کرکے لیا تو یہ درست ہے۔ قال في الدر المختار وصح الحط عنہ أي من الثمن

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات