معاملات - سود و انشورنس

India

سوال # 565

میں نے اسٹینڈرڈ چارٹرڈ (بینک) کا HOME SAVER ہوم لون اکاؤنٹ لے رکھا ہے ، اس میں یومیہ کے حساب سے سودشمار کیا جاتا ہے۔ اس اکاؤنٹ کا بنیادی تصور یہ ہے کہ اگر آپ نے دس لاکھ کو ہوم لون لے رکھا ہے اور آپ ایک لاکھ جمع کر رہے ہو، توسود نو لاکھ پر شمار ہوگا۔ یہ ایک لاکھ کسی وقت بھی لیا جاسکتا ہے۔ اگر لے لیا گیا تو پھر دس لاکھ پر دوبارہ سود شمار کیا جانے لگے گا۔ میں اس سود کو جلد از جلد کم کرنا چاہتا ہوں۔ کیا یہ جائز ہے کہ میں کچھ لاکھ میں اس جائداد کو کسی کرایہ دار کوتین متعینہ سال کے لیے کرایہ پر دیدوں، یا گیارہ ماہ کے معاہدہ پر کسی کو کرایہ پر دیدوں جس میں کرایہ دار مجھے ہر ماہ کرایہ ادا کرے گا اور دس ماہ کا ڈپازٹ دے گا، اس میں سے کون سا طریقہ زیادہ بہتر ہے؟


والسلام

Published on: Jun 3, 2007

جواب # 565

بسم الله الرحمن الرحيم

(فتوى: 341/ن=322/ن)


 

لون (سودی قرض لینا) ناجائز ہے اور پھر اس پر سود دینا حرام ہے لقولہ تعالیٰ ﴿اَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا﴾ (الآیة) ولحدیث: لعن رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم آکل الرّبوا و موکلہ وکاتبہ وشاهدیہ وقال : ھم سواء (مسلم و ترمذي) لہٰذا جلد از جلد مذکورہ سودی قرض کو ادا کریں اور اللہ کے حضور میں توبہ و استغفار کریں۔ اور اس کی ادائیگی کے لیے پہلی شکل کے اختیا رکرنے میں مضائقہ نہیں ہے۔ دوسری ڈپازٹ والی شکل اختیار نہ کی جائے۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات