معاملات - سود و انشورنس

India

سوال # 174353

بینک میں جو روپیہ بڑھتا ہے وہ کیوں حرام ہے جب کہ وہ خود سے دیتا ہے؟

Published on: Nov 3, 2019

جواب # 174353

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 207-126/SN=03/1441



بینک میں جو روپیہ رکھا جاتا ہے، شرعی اعتبار سے وہ ”قرض“ ہے اور قرض کے نتیجے میں جو نفع حاصل ہو قرآن و حدیث کی رو سے وہ ”سود“ ہے، اگرچہ یہ نفع باہمی تراضی سے لیا دیا جائے؛ اس لئے بینک میں جمع شدہ رقم پر جو انٹریسٹ ملتا ہے وہ حرام ہے، اس کا استعمال جائز نہیں ہے، اس طرح کی رقم بینک سے وصول کرکے بلا نیت ثواب محض وبال سے بچنے کے لئے غرباء و مساکین پر صدقہ کرنا ضروری ہے۔ کل قرض جرّ منفعةً فہو ربا (مصنف بن أبي شیبة ، رقم: ۲۰۶۹) وقال اللہ تبارک وتعالیٰ: أحلّ اللہ البیع وحرَّم الرِّبوا (البقرة) ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات